افغانستان میں سیاسی مفاہمت کا آغاز : طالبان رہنماؤں کی حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ، حکمت یار سے ملاقاتیں، حکومت سازی کی کوششیں، پرچم بدلنے پر مظاہرے، فائرنگ، 3ہلاک
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کیلئے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں، بدامنی نہیں پھیلانے دینگے : ترجمان افغان طالبان ، سراج حقانی کابل میں،ملا برادر آج پہنچیں گے ،حکمران کونسل کا قیام متوقع ،سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہونگے ،نائبین میں کوئی صدر ہوگا،افغان پائلٹس کو فوج میں شمولیت کی دعوت ، امریکا میں افغان حکومت کے 9.5 ارب ڈالر منجمد،کابل ایئرپورٹ سے کمرشل پروازوں کا آغاز،بھگدڑ سے 17زخمی،مزید امریکی فوجی پہنچ گئے ، 5ہزار سے زائد سفارتی عملے ، شہریوں کا انخلا
کابل،واشنگٹن(دنیا نیوز ،مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں سیاسی مفاہمت کا آغاز ہوگیا، حکومت سازی کی کو شش کرتے ہوئے طالبان رہنماؤں نے حامد کرزئی ، عبداللہ عبداللہ ، حکمت یار سے ملاقاتیں کیں ، مختلف شہروں میں پرچم بدلنے پر مظاہرے ہوئے ، فائرنگ سے 3افرادہلاک ہوگئے ،امریکا نے افغان حکومت کے ساڑھے 9 ارب ڈالر منجمد کردئیے ۔ تفصیلات کے مطابق قطر میں سیاسی دفتر کے رکن انس حقانی کی قیادت میں طالبان وفد نے سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی سے بیک وقت ملاقات کی،افغان سینیٹ کے سابق چیئرمین فضل ہادی اور دیگر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے ،ملاقات میں افغان جماعتوں میں تعاون کی سازگار فضا، ممکنہ حکومت سازی سمیت قومی امن پر بات چیت اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،دیگرجماعتوں کواعتمادمیں لینے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی،بعدازاں حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما انس حقانی نے سربراہ حزب اسلامی گلبدین حکمت یار سے بھی ملاقات کی، ملاقات میں حزب اسلامی اور افغان طالبان میں قریبی رابطوں پر اتفاق کیا گیا ۔طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی بھی کابل پہنچ گئے تاہم سراج الدین حقانی کچھ عرصے کیلئے سامنے نہیں آئیں گے ، اس دوران ان کے بھائی انس حقانی ہی کابل میں ملاقاتیں جاری رکھیں گے ،ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی طالبان قائدین کی افغان سیاسی رہنماؤں سے کابل میں پہلی باقاعدہ ملاقات کی تصدیق کر دی ،ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ طالبان وفد نے سیاسی قائدین کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا، افغان سیاسی قیادت کو فول پروف سکیورٹی فراہم کر دی ہے ۔دوسری جانب طالبان کے مرکزی رہنما ملا عبدالغنی برادرآٹھ دیگر ارکان کے ہمراہ قندھار میں موجود ہیں،ذرائع کا بتانا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر بھی آج کابل پہنچیں گے جس کے بعد طالبان وفد اور مصالحتی کونسل میں حکومت سازی پر بات چیت متوقع ہے ۔ترجمان طالبان سہیل شاہین نے ٹی وی سے گفتگو میں کہا کالعدم تحریک طالبان پاکستان کیلئے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہے ،کسی کوافغانستان میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے ، بھارت اشرف غنی حکومت کا ساتھی رہا ہے ، شایداسی لیے اسے بے چینی ہورہی ہے ،بھارت کو اب افغان عوام کی خوشی پر بھی خوش ہونا چاہیے ،سہیل شاہین نے تمام افغان گروپوں کی حکومت میں شمولیت کی خواہش کا بھی اظہار کردیا،انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نئی حکومت کا قیام مشاورت کے ساتھ عمل میں لایا جائے گا، ملا عبدالغنی برادر کو حکمران بنانے کا فیصلہ بھی مشاورت سے کیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، چاہتے ہیں کہ ہماری کرکٹ ٹیم ملک کا نام روشن کرے ۔ کابل میں ایک طالبان عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو میں کہاہے کہ افغان شہریوں کو ہتھیارا ورگولہ بارود طالبان ارکان کے حوالے کرنے ہوں گے ، افغان طالبان کے رہنما منظر عام پر آئیں گے ، دنیا ہمارے رہنمائوں کو بتدریج دیکھے گی، کوئی راز داری نہیں رہے گی،طالبان عہدے دار کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان ارکان کو افغانستان میں اپنی فتح کا جشن نہ منانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔سابق افغان نائب صدر احمد ضیا مسعود نے ایک انٹرویو میں کہا افغانستان میں تمام گروپوں پر مشتمل قومی حکومت تشکیل دینی ہوگی،افغانستان میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے ،شمالی اتحاد کے معروف مقتول کمانڈر کے بھائی احمد ولی مسعود نے کہا احمد شاہ مسعود کے بیٹے کا امر اللہ صالح سے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ لڑنے کی بجائے تمام نسلی گروہوں پر مشتمل حکومت کے ساتھ ملک میں امن چاہتے ہیں ورنہ سب طالبان کے خلاف مزاحمت کریں گے ،نئی حکومت جامع نہیں ہوئی تو ہر افغان مزاحمت کرے گا، ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے لیے ضروری ہے ۔دوسری جانب امریکا کی جو بائیڈن انتظامیہ نے کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی بینکوں میں موجود افغان حکومت کے 9 ارب 50 کروڑ ڈالر کے ذخائر منجمد کردئیے ۔مریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا تھا کہ امریکی سیکرٹری خزانہ جینیٹ یلین اور محکمہ خزانہ کے فارن ایسیٹس کنٹرول آفس کے عہدیداروں نے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ کیا،ایک حکومتی عہدیدار نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'امریکا میں افغان حکومت کا مرکزی بینک کا کوئی بھی اثاثہ طالبان کیلئے دستیاب نہیں ہوگا،بائیڈن حکومت کو مذکورہ ذخائر منجمد کرنے کیلئے کسی نئے اجازت نامے کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد جاری کردہ ایک صدارتی حکم نامے کے تحت طالبان پہلے ہی پابندی کی زد میں ہیں۔بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے طالبان کی حکومت کو پیسے تک رسائی سے روکنے کی کوشش کے طور پر کابل کو نقد کی ترسیل بھی روک دی۔ افغانستان کے مرکزی بینک کے قائم مقام سربراہ نے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ڈالرز کی ترسیل رک جائے گی کیوں کہ واشنگٹن طالبان کو فنڈز تک رسائی نہیں دے گا،افغانستان کی کرنسی افغانی کو طالبان کے قبضے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پیر سے سخت گراوٹ کا سامنا ہے ۔دریں اثنا افغانستان کے شہر جلال آباد میں قومی پرچم کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا، فائرنگ سے 3 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ،مظاہرے کے دوران افغان طالبان اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس کے بعد دیگر طالبان کمانڈروں کو جلال آباد طلب کیا گیا تھا،مظاہرین کی جانب سے جلال آباد کی پشتونستان سٹریٹ پر قومی پرچم لہرایا گیا تھا، عینی شاہدین کے مطابق طالبان نے ہوائی فائرنگ بھی کی تھی۔ننگرہار کے ضلع غنی خیل میں بھی سینکڑوں نوجوانوں نے افغان پرچم لہرانے کیلئے مظاہرہ کیا۔ادھر کابل ایئرپورٹ کو سویلین ایئر ٹریفک ،کمرشل فلائٹس کیلئے کھول دیا گیا،بھگدڑ سے 17افرادزخمی ہوگئے ، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کابل ائیرپورٹ سے 5 ہزار کے قریب سفارتکاروں، سکیورٹی سٹاف، امدادی ورکرز اور افغان شہریوں کا انخلا ہوا ہے ۔ امریکی دفاعی فورس سینٹ کام نے بتایاکہ کابل میں حامد کرزئی ایئرپورٹ محفوظ ہے ، کابل ایئرپورٹ تمام سویلین ایئرٹریفک کیلئے فعال ہے ۔امریکی دفاعی فورس کے جنرل فرنیک میک کینزی کا کہنا تھا کہ امریکی شہریوں کا تحفظ اس وقت اولین ترجیح ہے ۔سینٹ کوم کے کمانڈر جنرل فرنیک میک کینزی نے دوحہ میں طالبان سے ملاقات بھی کی تھی۔ملاقات میں امریکی کمانڈر نے امریکی انخلا میں مداخلت کیخلاف طالبان کو خبردار کیا تھا۔امریکا نے دو روز میں 3200سے زائد افراد کو کابل سے نکالا ہے ،ایک عہدیدار نے بتایا کہ اب جب ہم نے انخلا کے عمل میں تسلسل قائم کرلیا ہے ، ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی،منتقل ہونے والوں میں امریکی اہلکار بھی شامل ہیں اور تقریباً دو ہزار افغان خصوصی تارکین وطن کو بھی امریکا منتقل کردیا گیا ہے ۔امریکا کے مزید فوجی کابل ائیرپورٹ پہنچ گئے جو امریکی شہریوں کے ساتھ دوسرے ممالک کے لوگوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے خدمات انجام دیں گے ،طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان سے جرمن ائیرلائن لفتھانسا کی پہلی پرواز مسافروں کو لے کر جرمنی پہنچ گئی،کابل میں پاکستان کا سفارتخانہ پاکستانیوں، افغانیوں اور دوسرے ملکوں کے باشندوں کو قونصلر خدمات فراہم کرنے اور ملک چھوڑنے میں ان کی مدد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔کابل میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے ایک پیغام میں کہا کہ ویزا اور قونصلر خدمات تیزی سے دی جارہی ہیں اور تمام بین الاقوامی مشنوں اور سفارتکاروں، تنظیموں اور صحافیوں کو عارضی طور پر دوسری جگہ منتقل کرنے اور ملک واپسی میں مدد کے ذریعے مکمل تعاون فراہم کیا جارہا ہے ۔ افغانستان میں حکومتی امور چلانے کیلئے حکمران کونسل کا قیام متوقع ہے جس کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہوں گے ، طالبان حکومت چلانے کیلئے سابق دور جیسا نظام تشکیل دیں گے ، ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے نائب ممکنہ طور پر صدرہوں گے ،افغان طالبان کے نائب امیروں میں ملا عبدالغنی برادر، مولوی یعقوب اور سراج الدین حقانی شامل ہیں، طالبان نے افغان فوج کے پائلٹس کو بھی دوبارہ فوج میں شامل کرنے کی دعوت دی ہے ،ان خیالات کا اظہار طالبان کے ایک سینئر رہنماوحید اللہ ہاشمی نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا اب جبکہ طالبان افغانستان پر متصرف ہوچکے ہیں، ایک کونسل کے ذریعے حکومت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے ، غالب امکان اس بات کا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ حتمی قائد اور انچارج رہیں گے ، طالبان افغان مسلح افواج کے سابق سپاہیوں اور پائلٹس سے رابطہ کرکے انہیں ساتھ شامل ہونے کی دعوت بھی دے سکتے ہیں،خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا اس نوعیت کے تقرر کس حد تک کامیاب رہیں گے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا،گزشتہ دو دہائیوں کے دوران طالبان کے ہاتھوں ہزاروں افغان فوجی مارے جاچکے ہیں، طالبان نے حال ہی میں امریکی تربیت یافتہ پائلٹس کو بھی نشانہ بنایا جائے کیونکہ طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ان کا کردار کلیدی تھا۔وحید اللہ ہاشمی نے اقتدار کے جس ڈھانچے کی نشاندہی کی ہے وہ 1996 سے 2001 تک پائے جانے والے اقتدار کے ڈھانچے کے مماثل ہے ، تب سپریم لیڈر ملا عمر مرکزی حیثیت کے حامل تھے اور انہوں نے روزمرہ کے انتظامی معاملات کونسل (شوریٰ) کے سپرد کر رکھے تھے ، ہیبت اللہ اخونزادہ ممکنہ طور پر شوریٰ کے سربراہ سے زائد کوئی کردار چاہیں گے جو صدر کے منصب کے مساوی ہوگا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہیبت اللہ اخونزادہ کے نائب صدر کا منصب سنبھالیں،نائبین میں ملا عمر کے صاحبزادے مولوی یعقوب، حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی اور عبدالغنی برادرشامل ہیں، ملا عبدالغنی برادر قطر میں طالبان کے سیاسی ونگ کے سربراہ اور بانی ارکان میں سے ہیں، ابھی بہت سے معاملات طے کیے جانے ہیں جن میں یہ معاملہ بھی شامل ہے کہ طالبان ملک کیسے چلائیں گے ، وحید اللہ ہاشمی نے کہا یہ تو طے ہے کہ افغانستان میں جمہوریت نہیں ہوگی، ان کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام اس لیے نہیں ہوگا کہ ملک میں اس کی کوئی بنیاد نہیں، ہم ملک میں سیاسی نظام کے حوالے سے کسی سے کوئی بات نہیں کریں گے کیونکہ اسلامی شریعت موجود ہے اور اس کے بعد کسی چیز کی گنجائش نہیں، وحید اللہ ہاشمی نے بتایا کہ وہ اسی ہفتے حکمرانی کے معاملات پر غور کیلئے طالبان قیادت کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے ، ان کا کہنا تھا کہ طالبان نئی قومی فوج بنانا چاہتے ہیں جس میں طالبان کے علاوہ افغان سکیورٹی فورسز کے سپاہی بھی شامل ہوں گے اگر وہ شامل ہونا چاہیں،ان میں سے بیشتر نے ترکی، جرمنی اور انگلینڈ میں تربیت حاصل کی ہے ،ہم ان سے بات کرکے کہیں گے کہ واپس آکر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں،وحید اللہ ہاشمی نے کہا کہ تھوڑی بہت تبدیلیاں ضرور کی جائیں گی،ہم فوج میں چند اصلاحات چاہیں گے ،پھر بھی ہمیں سابق دور کی فوج کے سپاہیوں کی ضرورت تو ہوگی اور ہم انہیں بلائیں گے ، طالبان پائلٹس کو ضرور بلائیں گے کیونکہ ان کے پاس پائلٹس نہیں، انہوں نے کئی ایئر فیلڈز سے طیارے اور ہیلی کاپٹرز تحویل میں لیے ہیں، کئی پائلٹس سے رابطہ کرکے ان سے کہا گیا ہے کہ واپس آکر ڈیوٹی سنبھالیں، پڑوسی ممالک سے بھی توقع ہے کہ وہ اپنے ہاں اترنے والے افغان طیارے واپس کردیں گے ، گزشتہ ہفتے سیکڑوں افغان فوجی 22 طیاروں اور 24 ہیلی کاپٹرز میں ازبکستان چلے گئے تھے ۔