"RBC" (space) message & send to 7575

چل میلے نوں چلیے

یہ میرا پسندیدہ گانا ہے۔ اس سے عشق جیسا دلی لگائو ہے کہ پرانے وقتوں اور پنجاب کی گہری ثقافت کی نشانی ہے۔ اگر آپ پنجاب کے کسی بھی حصے میں رہتے ہیں‘ مشرق‘ مغرب‘ شمال‘ جنوب اور فلم ''انگریج‘‘ نہیں دیکھی تو آپ پر لاہور نہ دیکھنے والی بات صادق آئے گی۔ فلمیں ہم نے بہت دیکھی ہیں۔ ایک زمانے میں جب لاہور میں تقریباً ہر دوسرے ہفتے ایک نئی فلم سینما گھروں میں جلوہ گر ہوتی تھی تو ہم پہلے دن والی لائن میں ہوا کرتے تھے۔ ''انگریج‘‘ وہ واحد فلم ہے جسے کئی بار دیکھا ہے اور دل نہیں بھرا ہے۔ اسے دیکھ کر کُرتے کو سُوہا رنگ اور اس کے بل نکال کر کسی میلے کو جانے کو جی کرتا ہے۔ میلے ہمارے پنجاب کی ثقافت کے کئی رنگوں میں سے بہت گہرا رنگ ہیں۔ بچپن میں پنجاب کے کچھ علاقوں میں کئی میلوں میں کئی بار جانے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں دن بھر کئی کھیل تماشوں‘ مٹھائیوں‘ کھلونوں سے سجی دکانوں کے درمیان لوگ گھومتے رہتے۔ شام ہوتے ہی دو تین عوامی تھیٹر مقابلے میں آ جاتے اور عنایت حسین بھٹی اور عالم لوہار کے بغیر پنجاب کے میلوں میں تھیٹر اپنی رونق نہیں بنا سکتے تھے۔ بالی جٹی ہماری مشہور فنکارہ تھیں‘ جنہیں ان کی جوانی میں ہی سٹیج پر جلوہ گر دیکھا۔ ان کے نظر آتے ہی تماش بینوں کے دلوں میں آسمانی بجلی کے جھٹکے لگنا شروع ہو جاتے۔ رات گئے تک یہ تماشا جاری رہتا اور اگلی صبح بازاروں کی رونق‘ خرید و فروخت اور ہر جگہ کوئی نہ کوئی عوامی فنکار مجمع لگا کر داد و تحسین اور نوٹ وصول کر رہا ہوتا۔ لوگ ان رونقوں میں اس قدر کھو جاتے تھے کہ جیب کترے ان کی جیبیں صاف کر جاتے۔ یہ بھی فنکاروں کی ایک قسم ہے جو اَب میلوں سے زیادہ طاقت کے درباروں میں دیکھنے میں آتی ہے۔ عام جیب کترا پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا اور اگر 'سودا‘ نہ ہو پاتا تو چند دن جیل کی ہوا کھا کر واپس اپنے دھندے پر آ جاتا۔ خواص جیب کتروں کو راوی ہمیشہ چین و سکون‘ آسودگی اور قانون کی گرفت سے بالا تر دیکھتا آیا ہے۔
فلم 'انگریج‘ نے میلوں کا رخ کرنے کی تحریک تو پیدا کی مگر گزشتہ ساٹھ ستر سالوں میں موقع نہ مل پایا۔ بچپن کی یادوں اور پنجاب کی اس ثقافت نے دل میں ایک عرصہ سے جو تڑپ پیدا کی ہوئی تھی وہ آخر سوموار کے دن ہمیں اپنے آبائی علاقے کے میلے میں لے ہی گئی۔ ایسا لگا کہ دل میں ٹھنڈک اور آنکھوں میں ترو تازگی سی آ گئی ہے۔ یہاں دھنوں شاہ کا میلہ ہر سال مارچ کے آخری ہفتے میں سجتا ہے اور آنکھ کھولتے ہی پہلا میلہ یہی دیکھا تھا۔ کم از کم 75 سال پہلے والد بزرگوار بائی سائیکل پر بٹھا کر لائے تھے اور انگلی پکڑ کر ہمیں سیر کراتے رہے۔ سوموار کے دن سب کچھ مختلف تھا۔ لوگ بدل چکے ہیں‘ زمانہ بھی قیامت کی چال چل گیا ہے اور ہم تو عرصہ گزر گیا ہے وہ نہیں رہے۔ آتش جوان رہنے کا دعویٰ کرے یا نہ کرے‘ دل کی بات کچھ اور ہے۔ یہ ایسا پرزہ انسان کے سینے میں رکھ دیا گیا ہے جو ہم جیسے عام آدمیوں کے قبضے میں کبھی تھا اور نہ اب ہے۔ دھنوں شاہ کے دربار کے مجاور بھی بدل چکے ہیں اور میلے سے وابستہ ماضی کی روایات اور بازار کی رونقیں بھی۔ چند دن پہلے انہوں نے حکم دیا کہ اس مرتبہ میلے کا افتتاح اس درویش کے ہاتھ سے ہو گا۔ انہیں بتایا کہ ہماری درویشی جعلی ہے اور کچھ قارئین ہمیں ایسا کہتے بھی ہیں‘ اس لیے کسی مخدوم‘ پیر صاحب کو یہ سعادت بخشیں یا پھر کسی سیاسی رہنما کو درخواست کریں۔ آپس کی بات ہے کہ دل ہی دل میں خوش تھا کہ اس طرح بچپن کے اس میلے کے بازاروں کی رنگا رنگی دیکھنے کا موقع ملے گا۔ تب کسی افتتاح‘ دستار بندی یا مزار پر چادر چڑھانے کا یہاں رواج نہ تھا۔ ایک مخدوم صاحب جو دھنوں شاہ کے خاندان سے تھے‘ دور سے آتے تھے اور تین دن قیام کے بعد چلے جاتے تھے۔ میلہ خود بخود شروع ہو جاتا اور تیسرے دن سب تھک ہار کر اپنے گھروں اور کاموں کو چلے جاتے۔ عجیب سی کیفیت تھی کہ وہاں صبح سویرے مقررہ وقت پر پہنچتے ہی خوش آمدید کہنے والے لوگوں میں گھر گیا۔ گلے میں خوبصورت پھولدار پلاسٹک یا کاغذی ہار لٹکایا‘ کسی نے سر پر دستار کھینچ کر باندھی اور سر پہ سبز رنگ کی چادر‘ جس پر کچھ لکھا ہوا تھا‘ تان لی گئی۔ یوں ہم میلے کے لیے تازہ سجے بازار سے جلوس کے گھیرے میں مزار کی طرف راستے میں کھڑے لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے داخل ہو گئے۔ یہاں ایک پختہ دیوار کے احاطے میں کچھ قبریں بچپن میں ہم نے دیکھی تھیں‘ جن میں دھنوں شاہ کی سب سے بڑی اور نمایاں ہوا کرتی تھی۔ اس کو دوسروں سے ممتاز رکھنے کے لیے مجاور ایک رنگ دار چادر عموماً سرخ رنگ کی ڈال دیتے تھے‘ جسے تبدیل کرنے کی نوبت اتنی جلد نہیں آیا کرتی تھی۔ پوری عمر کہیں اور گزارنے اور وقتاً فوقتاً اس جگہ سے دور سے گزرتے رہنے کے بعد آج سب کچھ مختلف دیکھا‘ جیسے ایک بہت بڑا انقلاب آگیا ہو۔ وہ قبر جس پر میلے کے دنوں سے ایک دو ہفتے پہلے سیمنٹ سے مرمت اور چونے کی پوچی پھیری جاتی تھی‘ خوبصورت جدید رنگ برنگی ٹائلوں سے مزین تھی۔ قبر کے تعویذ پر کئی چادریں پڑی تھیں‘ جن پر میرے ہاتھ میں تھمائی گئی ایک اور چادر کا اضافہ ہو گیا۔ دیواروں پر نظر پڑی‘ حیرانی اور بڑھی کہ روایتی ملتانی نیلی ٹائلوں سے آرائش بہت مہارت سے کی گئی تھی۔ فرش پر بھی رنگدار پیچی کاری کے نمونے دیکھے۔ اوپر چھت گنبدی اور چاروں اطراف میں بلندیوں پر روشنی اور ہوا کیلئے قدیم طرز کے روشن دان تھے۔ یہ شاہکار ایک ایسے کاریگر کا ہے جو نہ کسی سکول یا کالج میں گیا اور نہ ہی کہیں تربیت حاصل کی۔ اس کے بارے میں آئندہ مضمون میں۔
میں بازاروں میں بھی اسی جلوس کی صورت میں گھومتا ہوا واپس ہوا تو بہت کچھ تبدیل نظر آیا۔ جھولے ہمارے زمانوں کے لکڑی کے نہیں‘ کئی منزلہ وہیل تھے جو انجن اور بجلی کی طاقت سے چل رہے تھے۔ چڑیا گھر بھی تھا‘ موت کے کنویں اور سرکس کے بغیر آج کے دور کا کوئی میلہ‘ میلہ کہلانے کا حقدار نہیں۔ دو قسم کی دکانیں جن کی بہتات تھی وہ آج بھی تھیں؛ کانجی جسے شہروں میں فالودہ کہتے ہیں اور تازہ جلیبیاں مشکوک تیل میں تڑ تڑ تلی جا رہی تھیں۔ اس میلے میں ''تل شکری‘‘ مشہور سوغات سمجھی جاتی ہے اور لوگ سب سے زیادہ‘ دیگر مٹھائیوں کے ساتھ ضرور خریدا کرتے ہیں۔ یہ بالکل قدیمی نوعیت کا میلہ ہے جس میں مقامی ثقافت کا رنگ غالب ہے۔ یہاں نہ کوئی ذات پات‘ نہ ترقی پسندی اور نہ ہی مذہبی شناخت کا عمل دخل ہے۔ بس دور دراز سے لوگ آتے ہیں‘ کروڑوں کا کاروبار اور خرید و فروخت ہوتی ہے اور عوامی دلچسپی کے سب کھیل تماشے تین دن جاری رہتے ہیں۔ اب ہم لوگوں کے شوق اور ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے اپنے آپ کو خوش رکھتے ہیں۔
دو دن پہلے ہمارے آموں کے درختوں کے قریب رہنے والے ہمسائے کو سائیکل رکشے پر کانجی کے بڑے بڑے برتن لاد کر لے جاتے دیکھا تو ڈھکن اتار کر کچھ تعریف کی۔ آج کانجی کی دیگچی لے کر اُن کا بچہ ہمارے سامنے رکھ گیا ہے۔ ان لوگوں کی محبت اور فیاضی ہمارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں