نیٹو ممالک کے فوجی گرین لینڈ پہنچنا شروع
امریکا، ڈنمارک، گرین لینڈ ملاقات بے نتیجہ،اضافی ڈینش فوج تعینات 15فرانسیسی،13جرمن فوجی پہنچے ،یورپی یونین کا پرچم نصب کیا جائے گا
نوک(مانیٹرنگ ڈیسک)جرمنی، فرانس، ناروے ، سوئیڈن اور دیگر نیٹو رکن ملکوں کے فوجی گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئے ۔امریکی صدر ٹرمپ چین اور روس کیجانب سے گرین لینڈ پر ممکنہ تسلط کو خطرہ قرار دے کر خود گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی دے چکے ہیں۔گرین لینڈ سے متعلق امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ حکام کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی جس کے بعد ڈنمارک نے اضافی فوج گرین لینڈ بھیج دی ہے ، دیگر یورپی ممالک نے بھی گرین لینڈ کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے اپنے فوجی دستے وہاں بھیجنا شروع کر دئیے ہیں۔فرانس نے 15 اور جرمنی نے 13 فوجی گرین لینڈ روانہ کیے ہیں، جبکہ ناروے اور سوئیڈن بھی اس مشن میں شامل ہیں۔ اس دو روزہ کارروائی کو باضابطہ طور پر ‘‘سرزمین کی شناخت کی مشق ’’ کہا جا رہا ہے ، جس کے دوران یورپی یونین کا پرچم گرین لینڈ میں نصب کیا جائے گا، تاکہ یورپی خود مختاری اور موجودگی کی علامتی تصدیق کی جا سکے ۔خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے ارادے سے باز نہ رکھ سکے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکا کو گرین لینڈ ‘‘ہر حال میں’’ چاہیے ، ورنہ روس اور چین وہاں قدم جما لیں گے ۔ڈنمارک نے اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے ، تاہم یورپی اور ڈنمارک کے حکام تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات امریکا کو عسکری طور پر روکنے کے لیے نہیں بلکہ سیاسی دباؤ اور علامتی مزاحمت کے طور پر ہیں۔