ٹرمپ کی صدارت کا1 سال ، عالمی نظام کو بدلنے کی کوششیں
وینزویلا پر حملہ،مادورو ،انکی اہلیہ کی گرفتاری کوامریکا فرسٹ نظریہ کے تحت دیکھا جا رہا ٹرمپ پالیسی سے عالمی تعلقات میں کشیدگی ، غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی:تجزیہ کار
واشنگٹن(اے ایف پی)امریکی صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے ،اس دوران انہوں نے عالمی امن اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم شدہ عالمی نظام کو نئی شکل دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر بڑی کارروائی کا حکم دیا، جس میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا، جسے واشنگٹن قانونی کارروائی قرار دیتا ہے ، لیکن کئی ممالک نے اسے غیر قانونی اور جارحانہ عمل قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے ایران، کولمبیا اور میکسیکو میں بھی فوجی آپشنز کے استعمال کا عندیہ دیا ہے ، جبکہ امریکا نے متعدد بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کے پروگراموں سے علیحدگی اختیار کی ہے ۔ ان اقدامات کو امریکا فرسٹ نظریہ کے تحت دیکھا جا رہا ہے ، جس میں طاقت، خودمختاری اور قومی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے ۔سفارتی حلقوں کے مطابق ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے عالمی تعلقات میں کشیدگی بڑھا دی ہے اور امریکہ کی روایتی اتحادی پوزیشن کو متاثر کیا ہے ۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ عالمی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ، جبکہ کچھ حلقے اسے امریکہ کے قومی مفاد میں ضروری قدم قرار دیتے ہیں۔ٹرمپ کی قیادت میں عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ اور فوجی طاقت کو بڑھانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں، جس سے بین الاقوامی سیاست میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔