امریکا سے معاہدہ ممکن ، دوستوں کے ذریعے بات چیت جاری : ایران
میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کرینگے :ایرانی وزیر خارجہ،امریکا نے حملہ کیا تو جنگ پورے خطے میں پھیلے گی:خامنہ ای ،ڈیل نہ ہو ئی تو دنیا جلد دیکھ لے گی :ٹرمپ ایران سے مذاکرات جاری ہیں،اپنا سیاسی منصوبہ خلیجی ممالک کو نہیں بتا سکتے :امریکی صدر ،خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی آمد دشمن کا نفسیاتی حربہ :پاسداران انقلاب
تہران،واشنگٹن (اے ایف پی ،دنیا مانیٹرنگ) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے وہ پُر امید ہیں کہ امریکا سے جوہری معاہدہ ممکن ہے ۔امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا پراعتمادنہیں ہے ،تاہم بات چیت دوستوں کے ذریعے جاری ہے ۔ بیلسٹک میزائل اور مزاحمتی تنظیموں کا ساتھ چھوڑنے کی بات ناممکن ہے ۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا امریکا کے ساتھ مذاکرات تبھی ممکن ہیں جب واشنگٹن منصفانہ اور برابر معاہدے کا عہد کرے ، جس سے اعتماد بحال ہو اور جوہری تنازع پر حل ممکن ہو سکے ۔ عراقچی نے کہا بات چیت تبھی کامیاب ہو سکتی ہے اگر مذاکرات سیاسی دباؤ یا دھمکیوں کے سائے سے آزاد ہوں، اور دونوں فریق باہمی احترام اور برابر کی بنیاد پر بات کریں۔ایران مذاکرات کے ساتھ ساتھ جنگ کیلئے بھی تیار ہے ، تہران اپنے دفاعی اور میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کرے گا، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی لانے کیلئے ثالث ممالک کی کوششیں جاری ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر خامنہای نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر کوئی فوجی حملہ کرتا ہے تو اس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ پھیل سکتی ہے ۔خامنہای نے حالیہ عوامی احتجاج کو بغاوت کے مترادف قرار دیا اور اس کے پس پشت امریکا اور اسرائیل کو قرار دیا، خامنہای نے امریکی جنگی بیڑوں کی خلیج میں موجودگی کے پیشِ نظر کہا کہ ایران جنگ کا آغاز نہیں چاہتا، لیکن اگر حملہ ہوا تو سخت جواب دیا جائے گا۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر کوئی ڈیل نہ ہو پائی تو دنیا جلد دیکھ لے گی کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے درست کہا تھا کہ امریکی حملہ پورے خطے میں جنگ بھڑکا دے گا۔ ٹرمپ نے کہا امریکا کے بہت بڑے اور طاقتور جنگی بحری بیڑے خلیج کے قریب تعینات ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ مذاکرات سے کسی حل تک پہنچا جائے گا، لیکن اگر ڈیل نہ ہوئی تو نتائج سامنے آئیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ، تاہم فوجی آپشن کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اس بارے میں خلیجی ممالک لاعلم ہیں۔ فاکس نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے خلیجی ریاستوں کو ایران کے حوالے سے اپنے منصوبے سے لاعلم رکھنے کے بارے میں کہا ہم انہیں اپنا منصوبہ نہیں بتا سکتے ، اگر میں نے انہیں اپنا پلان بتایا تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسا میں آپ کو بتا دوں، درحقیقت یہ اس سے بھی بدتر ہو سکتا ہے ۔ وہ ہم سے بات کر رہے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی حل نکل سکتا ہے ، بصورت دیگر ہمیں دیکھنا ہو گا کہ وہاں کیا ہوتا ہے ؟۔پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر احمد واحدی نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر کہا ہے کہ خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی آمد دشمن کی نفسیاتی کارروائیوں کا حصہ ہے اور اس پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے۔
گزشتہ روز پاسداران انقلاب کی وردی پہنے ایرانی اراکین پارلیمنٹ میں داخل ہوئے ،یہ یورپی یونین کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشتگرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیے جانے پر ایرانی پارلیمان کا ردعمل تھا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا امریکا کے ساتھ کوئی جنگ ایران کے حق میں ہے ، نہ امریکا کے اور نہ ہی خطے کے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے مصر کے صدر عبد الفتاح سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی بھی جنگ کی تلاش میں نہیں رہے گا ۔