ٹرمپ نے اپنی صدارت کا سب سے بڑا جوا کھیل دیا

 ٹرمپ نے اپنی صدارت کا سب سے بڑا جوا کھیل دیا

واشنگٹن (رائٹرز) ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کر کے ٹرمپ نے ایک ایسا فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے جسے وہ اپنی سیاسی میراث کا اہم حصہ بنانا چاہتے ہیں، اور اس کے ذریعے وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر امریکا کی فوجی طاقت براہِ راست استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔

 تاہم اس اقدام کے ساتھ ہی وہ اپنی صدارت کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا جوا بھی کھیل رہے ہیں، جو خطرات اور غیر یقینی صورتحال سے بھرپور ہے ۔ٹرمپ نے ہفتے کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی، جبکہ انہوں نے امریکی عوام کو اس بارے میں بہت کم وضاحت فراہم کی کہ یہ کارروائی افغانستان اور عراق کی جنگوں کے بعد امریکا کی سب سے بڑی فوجی مہم بن سکتی ہے ۔ٹرمپ نے پچھلے مہینے وینزویلا میں کی گئی برق رفتار محدود کارروائی جیسے انداز سے ہٹ کر اب ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جس کے بارے میں ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ایران کے ساتھ طویل جنگ میں بدل سکتا ہے اور تیل سے مالا مال پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی علاقائی آگ بھڑکا سکتا ہے ۔انہوں نے تہران میں حکومت کی تبدیلی کا ایک نہایت مشکل ہدف بھی مقرر کیا ہے ، اور یہ مؤقف پیش کیا ہے کہ فضائی حملے عوامی بغاوت کو بھڑکا سکتے ہیں جو ایران کی حکمران قیادت کو اقتدار سے ہٹا دے ۔تاہم تاریخ میں بیرونی فضائی طاقت اکیلے کبھی بھی زمینی مسلح قوت کی شمولیت کے بغیر براہِ راست ایسی تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہوئی، اور زیادہ تر تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ اس بار بھی یہ حکمتِ عملی کامیاب ہو سکے گی۔

زیادہ تر امریکی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ میں کیوں ہیں، ہمارا مقصد کیا ہے ، اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملے کیوں ہو رہے یں، یہ بات ڈینیئل شاپیرو نے کہی، جو پینٹاگون کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور اسرائیل میں امریکا کے سابق سفیر رہ چکے ہیں اور اس وقت واشنگٹن کے تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ ہیں۔ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی غیر معمولی توجہ اس بات کی نمایاں مثال بن کر سامنے آئی ہے کہ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے 13 مہینوں میں خارجہ پالیسی خصوصاً فوجی طاقت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو انہوں نے اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے ۔ اس دوران اندرونی مسائل، جیسے مہنگائی اور معیارِ زندگی کی لاگت، اکثر پس منظر میں چلے گئے ہیں، حالانکہ عوامی جائزوں کے مطابق یہ معاملات زیادہ تر امریکیوں کے لیے کہیں زیادہ اہم ہیں۔نجی طور پر ان کے اپنے مشیر کئی ہفتوں سے انہیں مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ ووٹروں کی معاشی پریشانیوں پر زیادہ توجہ دیں، اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے درپیش سیاسی خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں، جن میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت کھونے کا خدشہ لاحق ہے ۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک مختصر ویڈیو پوسٹ کی، جس میں پینٹاگون کی جانب سے "Operation Epic Fury" کے نام سے جاری کردہ کارروائی کا اعلان کیا گیا۔ لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکا نے جس ملک کے ساتھ دہائیوں سے جھگڑا کیا ہے ، اس کے ساتھ مکمل جنگ کیوں شروع کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کے بعض مشیر پہلے یہ تجویز دے چکے تھے کہ وہ تہران پر بمباری کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور بڑے مطالبات منوانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے بجائے ایران نے ہفتے کو جواب میں اسرائیل اور خلیجی تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک پر میزائل داغے ۔ویڈیو میں ٹرمپ نے ایران کے بیلسٹک اور جوہری پروگراموں کی وجہ سے پیدا ہونے والے فوری خطرے پر زور دیا، جو کسی حد تک 2003 میں صدر جارج ڈبلیو بش کی عراق کے خلاف جنگ کے لیے پیش کیے گئے دلائل کی یاد دلاتا ہے ، جو بعد میں غلط انٹیلی جنس اور جھوٹے دعووں پر مبنی ثابت ہوئے ۔ٹرمپ کے منگل کو سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں یہ دعویٰ کہ ایران جلد ایسا میزائل تیار کر لے گا جو امریکا تک پہنچ سکتا ہے ، امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں درست نہیں ہے ، جیسا کہ ان جائزوں سے واقف ذرائع نے بتایا۔ ماہرین نے حالیہ دعووں پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ تہران اپنی جوہری صلاحیتوں میں تیزی سے ترقی کر سکتا ہے ، جیسا کہ ٹرمپ کے مشیروں نے کہا تھا۔ہفتے کو کیے گئے حملوں کے ساتھ، ٹرمپ جنہوں نے جنوری میں ایرانی سڑکوں پر مظاہرین کی حمایت میں ایران پر حملے کی دھمکی دی تھی نے اس بات میں تمام شبہات دور کر دیے کہ اب وہ تہران میں رجیم چینج بھی چاہتے ہیں۔تاہم تجزیہ کار سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا ٹرمپ جنہوں نے زمینی فوجی تعیناتی کو مسترد کیا ہے۔

کے پاس کوئی ایسی حکمت عملی ہے جو ایران کی طویل المدتی مذہبی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہو سکے ، جس نے پابندیوں اور بار بار ہونے والے عوامی مظاہروں کے باوجود اپنی مزاحمت ثابت کی ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر حملے اعلیٰ رہنماؤں کو ختم کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، تو اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جیسے 93 ملین آبادی والے وسیع ملک میں انتشار پیدا ہونا یا ایک فوجی حکومت کا قائم ہونا، جو مغرب کے ساتھ اور بھی زیادہ ضدی اور اپنے عوام کے لیے ظالم ہو سکتی ہے ۔واشنگٹن کے تھنک ٹینک سے وابستہ جون آلٹر مین نے کہا فضائی حملوں سے حکومت بدلنا مشکل ہے ۔ فضائی حملوں کے ذریعے ایرانی عوام کے ذہن بدلنا مشکل ہے ۔ایک اور مبصر نکول گراجوسکی نے کہا ایران ایک زیادہ مضبوط عسکری طاقت ہے ، اور یہاں خلیج میں اس کا موجودہ ردعمل دیکھیں ، وہ اب وہ حدیں عبور کرنے پر تیار ہیں جنہیں پہلے عبور کرنے سے گریز کرتے تھے ، لیکن اسرائیل نواز تحقیقاتی ادارے مارک ڈوبووٹز نے کہا کہ تہران اتنے کمزور حال میں ہے کہ ٹرمپ کے لیے خطرات مول لینا اس کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے قابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ چاہے ایرانی حکومت گر ے یا نہ گرے ، ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچانا ٹرمپ کے لیے ایک کامیابی ہو سکتی ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں