کراچی میں مظاہرین پر فائر نگ امریکی فوجی اہلکاروں نے کی
گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں:پولیس اہلکار کا موقف
واشنگٹن (رائٹرز)دو امریکی حکام نے پیر کے روز بتایا کہ ہفتے کے اختتام پر کراچی میں امریکی قونصل خانے پر دھاوا بولنے کے دوران امریکی میرینز نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔۔اتوار کو اس وقت 10فراد ہلاک ہوگئے جب مظاہرین نے خامنہ ای کی ایران پر حملوں میں شہادت کے بعد قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑ کر احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں امریکی حکام نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ میرینز کی فائرنگ سے کوئی شخص زخمی یا ہلاک ہوا یا نہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مشن کی حفاظت پر مامور دیگر اہلکاروں، جن میں نجی سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس شامل ہیں، نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔یہ پہلا موقع ہوگا کہ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرین پر فائرنگ میں میرینز ملوث تھے ۔صوبائی حکومت کے ترجمان سکھ دیو اسرداس ہمنانی نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے تھے۔
امریکی سفارتی مشنز پر روزمرہ سکیورٹی انتظامات عموماً نجی کنٹریکٹرز اور مقامی فورسز انجام دیتی ہیں، اور اس واقعے میں میرینز کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قونصل خانے نے خطرے کو کس قدر سنجیدگی سے لیا۔سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں مظاہرین میں شامل ایک شخص کو بظاہر قونصل خانے کی جانب فائرنگ کرتے دکھایا گیا، جبکہ خون میں لت پت افراد کو گولیوں کی آوازوں کے درمیان بھاگتے دیکھا گیا۔کراچی پولیس کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں۔امریکی میرینز نے سوالات امریکی فوج کی جانب منتقل کر دئیے جبکہ امریکی فوج نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے محکمہ خارجہ سے رجوع کرنے کا کہا۔ محکمہ خارجہ نے تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔کراچی میں امریکی قونصل خانے جانے والی سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ۔ اسی طرح کے سکیورٹی انتظامات لاہور اور اسلام آباد میں امریکی مشنز کے اطراف بھی نافذ کیے گئے ہیں۔