معاہدہ نہ ہواتوشدیدحملے :ٹرمپ ،ہماری انگلی ٹریگر پر:مسعود

معاہدہ نہ ہواتوشدیدحملے :ٹرمپ ،ہماری انگلی ٹریگر پر:مسعود

ایرانی معقول لوگ ، معاہدے تک امریکی فوج ایران کے گرد رہے گی:امریکی صدر اگر لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو مذاکرات بے معنی ہو جائینگے :ایرانی صدر

 واشنگٹن ،تہران (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ روزشدید حملوں کی دھمکی دینے کے بعد ایرانی  رہنما ؤں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں معقول لوگ قرار دے دیاجبکہ دھمکی کے جواب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کاکہناتھاکہ ہماری انگلی بھی ٹریگر پررہے گی ۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پیغام میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر حتمی معاہدے کی پوری طرح تعمیل نہ ہوئی تو شوٹنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی، جب تک ایک حقیقی اور حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا تب تک پہلے سے تباہ شدہ دشمن کے خاتمے کیلئے ضروری تمام امریکی بحری اور ہوائی جہاز، فوجی عملہ، اضافی گولہ بارود، ہتھیار اور اس کیلئے درکار ہر چیز کے ساتھ ایران کے آس پاس موجود رہیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی وجہ سے معاہدہ نہیں ہوتا ہے۔ 

 

، جس کے امکانات بہت کم ہیں، تو ایسی صورت میں دوبارہ شوٹنگ شروع ہو جائے گی جو پہلے سے کہیں بڑے پیمانے پر ہو گی۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس بات پر بہت پہلے اتفاق ہو چکا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی اور آبنائے ہرمز محفوظ آمدورفت کیلئے کھولا جائے گا۔ بعدازاں ایک اور بیان میں ٹرمپ کا کہناتھاکہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کیلئے پُرامیدہوں ، ایران نے ان تمام چیزوں سے اتفاق کرلیا ہے جس پر اسے اتفاق کرنا تھا، ایرانی رہنما معقول لوگ ہیں مگر معاہدہ نہ کیا تو بہت تکلیف دہ ہوگا،ایرانی عہدیدار جب میڈیا سے بات نہیں کرتے تو مناسب نظر آتے ہیں ۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کمی آئی ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے انہیں خود فون کر کے حملوں میں کمی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو مذاکرات بے معنی ہو جائیں گے اور ایران کی انگلی بھی ٹریگر پر رہے گی ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ لبنان سمیت ایران کا حمایت یافتہ مزاحمتی محور جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے اور خلاف ورزی کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک ایکس پیغام میں کہنا تھا کہ اگر امریکا نیتن یاہو کو سفارت کاری ختم کرنے کی اجازت دے کر اپنی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے ، تو یہ ایک بیوقوفانہ اقدام ہوگا لیکن ہم اس کیلئے تیار ہیں۔ نیتن یاہو کے خلاف مجرمانہ مقدمہ کی سماعت اتوار کو دوبارہ شروع ہو رہی ہے ، لبنان سمیت پورے خطے میں جنگ بندی انہیں جیل بھیجنے کے عمل کو تیز کر دے گی۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں