امریکا نے 50کروڑ ڈالر عراق لے جانیوالے طیارے کو روک دیا

امریکا نے 50کروڑ ڈالر عراق لے جانیوالے طیارے کو روک دیا

یہ رقم عراقی تیل کی فروخت کے بدلے میں دی جانی تھی ، سکیورٹی پروگراموں کی فنڈنگ بھی منجمد کر دی گئی ایران نواز گروہوں کیخلاف کارروائی کیلئے عراق پر دباؤ بڑھ گیا ،رقم کی ترسیل کی معطلی عارضی :امریکی اخبار

 واشنگٹن(اے ایف پی )امریکا نے تقریباً 50 کروڑ ڈالر لے جانے والے ایک طیارے کو عراق جانے سے روک دیا ہے ۔ اس اقدام سے عراق پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ  ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ دی وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ نے عراقی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی نقد رقم کی ترسیل روک دی اور سکیو رٹی پروگراموں کی فنڈنگ بھی منجمد کر دی ہے ۔ یہ اقدام ان حملوں کے بعد کیا گیا جو ایران سے ہمدردی رکھنے والے گروہوں کی جانب سے عراق میں امریکی مفادات پر کیے گئے ۔عراق طویل عرصے سے اپنے دو اتحادیوں، ہمسایہ ملک ایران اور امریکا کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ رواں ماہ واشنگٹن میں تعینات عراق کے سفیر کو طلب کر کے ایران نواز گروہوں کی جانب سے امریکی مفادات پر حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں 8 اپریل کو بغداد میں امریکی سفارتکاروں پر حملہ بھی شامل ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کو عراق پر اس لیے اثر و رسوخ حاصل ہے کیونکہ ملک کی تیل برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں رکھا جاتا ہے ۔ یہ انتظام 2003 میں امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد طے پایا تھا جس میں صدام حسین کی حکومت ختم ہوئی تھی۔دی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نقد رقم کی ترسیل کی معطلی عارضی ہے ۔عراق کے مرکزی بینک نے ان خبروں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم منگل کو اس نے کہا کہ ملک میں امریکی ڈالر کی کمی نہیں اور بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کی تمام ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں