اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کیساتھ وسیع پیمانے پر جنسی تشدد

اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کیساتھ وسیع پیمانے پر جنسی تشدد

14 متاثرین نے اپنے تجربات بیان کئے ، اہلکاروں پر سنگین الزامات ہیں :امریکی اخبار اسرائیل پر 7اکتوبر2023 کوحملہ کرنیوالے ملزمان کے ٹرائل کیلئے فوجی عدالت قائم پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد 400حماس جنگجوؤں کو سزائے موت دینے کی راہ ہموار

نیو یارک،تل ابیب ،بیروت(اے ایف پی)نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جیل اہلکاروں، فوجی اہلکاروں اور تفتیش کاروں کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 14 متاثرہ افراد نے مقبوضہ مغربی کنارے میں انٹرویو کے دوران اپنے تجربات بیان کیے جن میں فوجی اہلکاروں اور سکیورٹی اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو منظم پروپیگنڈا قرار دیا ہے ۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ  کی ایک سابقہ دستاویز کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں جنسی تشدد کے خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں ملوث فلسطینی جنگجوؤں کے ٹرائل کے لیے خصوصی فوجی عدالت قائم کی جائے گی، جہاں سزائے موت بھی سنائی جا سکے گی۔ 93 ارکان نے قانون کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 120 رکنی پارلیمنٹ میں کسی نے مخالفت نہیں کی۔خصوصی عدالت ان حملہ آوروں کے مقدمات سنے گی جنہیں حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے دوران یا بعد میں گرفتار کیا گیا اور جو اب تک حراست میں ہیں۔

عدالت ان افراد کا بھی ٹرائل کرے گی جن پر غزہ میں یرغمالیوں کو قید رکھنے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا الزام ہے ۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق تقریباً 400 مشتبہ افراد کے خلاف اس عدالت میں مقدمات چلائے جانے کا امکان ہے ۔پیر کو منظور ہونے والے قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث کسی بھی مشتبہ، ملزم یا سزا یافتہ فرد کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدوں میں شامل نہیں کیا جائے گا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ عدالتیں نمائشی ٹرائلز کا سبب بن سکتی ہیں۔پبلک کمیٹی اگینسٹ ٹارچر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساری باشی نے ایک بیان میں کہا کہ 7 اکتوبر کے متاثرین اور ان کے خاندان انصاف کے مستحق ہیں، انتقام کے نہیں، جو تشدد کے ذریعے لیے گئے اعترافات پر مبنی نمائشی ٹرائلز اور اجتماعی پھانسیوں کی شکل میں سامنے آئے ۔واضح رہے حماس کے اچانک حملے میں اسرائیل میں 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔

حماس نے 251 افراد کو یرغمال بھی بنایا تھا، جن میں 44 افراد پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے ۔اس کے جواب میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے غزہ کی پٹی کو تباہ کر دیا، جبکہ حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 72 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ادھر جنوبی لبنان کے ایک قصبے کفردونین پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 8 افرادشہید اور 7 زخمی ہوگئے ۔لبنان کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق جنوبی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے کے دوران اس کے دو اہلکار بھی شہید ہوگئے جو ریسکیو کارروائی میں مصروف تھے ۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں 380 افراد شہید ہوچکے ہیں، مجموعی طور پر جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 2900 افراد جان سے جا چکے ،مرنے والوں میں 22 بچے اور 39 خواتین شامل ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں