مچھروں کے کاٹنے سے سالانہ 7 لاکھ 60 ہزار اموات

مچھروں کے کاٹنے سے سالانہ 7 لاکھ 60 ہزار اموات

مچھر دنیا کے مہلک ترین قاتل قرار ، نئے علاقوں تک پھیلنے لگے ، عالمی خدشات سائنسدان مچھروں کو ختم نہیں بلکہ بے ضرر بنانے کی نئی ٹیکنالوجی پر متحرک برازیل میں تجربہ کامیاب، مچھر سے پھیلنے والے ڈینگی کیسز میں 89 فیصد کمی

پیرس (اے ایف پی) دنیا میں سب سے زیادہ انسانی ہلاکتوں کا سبب شیر، سانپ یا مکڑیاں نہیں بلکہ مچھر ہیں، جو ہر سال تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار افراد کی جان لیتے ہیں۔ تحقیقی ویب سائٹ ’’آور ورلڈ اِن ڈیٹا‘‘کے مطابق مچھر ملیریا، ڈینگی، زرد بخار، چکن گونیا اور زیکا سمیت کئی مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور دنیا بھر میں متعدی امراض کے تقریباً 17فیصد کیسز انہی سے منسلک ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے عالمی درجہ حرارت کے باعث مچھر اب نئے علاقوں تک پھیل رہے  ہیں،

جس سے مستقبل میں عالمی صحت کے مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔ تحقیق کے مطابق دنیا میں تقریباً 3 ہزار 500 اقسام کے مچھر موجود ہیں، تاہم صرف 100 اقسام انسانوں کو کاٹتی ہیں جبکہ صرف 5 اقسام تقریباً 95 فیصد انفیکشنز کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہیں۔سائنس دان مچھروں کی افزائش اور بیماری پھیلانے کی صلاحیت روکنے کیلئے نئی جینیاتی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہے ہیں۔جین ڈرائیو نامی طریقہ کار کے تحت مچھروں کی جینیاتی ساخت تبدیل کر کے انہیں بانجھ بنایا جا رہا ہے ۔برازیل میں ہونے والے ایک تجربے میں ڈینگی کیسز میں 89 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 تک مختلف ممالک میں مزید عملی آزمائشیں متوقع ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں