امریکا نے سعودی عرب کو جوہری پروگرام شروع کر نے کی اجازت دیدی
ٹرمپ نے معاہدے کی منظوری دیدی ،امریکی کمپنیاں سعودی جوہری پروگرام کی ترقی میں حصہ لیں گی، اضافی نگرانی کا پروٹوکول شامل نہیں ہوگا ٹرمپ نے سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کا راستہ فراہم کردیا:ماہرین ،اسرائیلی اپوزیشن نے معاہدہ اسرائیل کیلئے سٹریٹیجک تباہی قرار دیدیا
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکا نے سعودی عرب کو جوہری پروگرام شروع کرنے کی اجازت دیدی،امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مملکت کو اپنے سویلین جوہری پروگرام کے لیے ممکنہ طور پر یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے ۔ اس پیش رفت سے آگاہ دو ذرائع نے یہ معلومات فراہم کیں۔یہ معاہدہ 30 برس کیلئے ہوگا اور اس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سویلین جوہری پروگرام کی ترقی میں حصہ لیں گی۔ معاہدے کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ تکنیکی مطالعے کے بعد سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیب بھی قائم کی جا سکتی ہے ۔تاہم اس معاہدے کو امریکی کانگریس میں جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں اسے بعض قانون سازوں کی مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تو اس سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور نئی جوہری دوڑ کا خدشہ بڑھ سکتا ہے ۔سعودی عرب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن ہے ، جو پرامن جوہری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بناتی ہے کہ رکن ممالک خفیہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے پروگرام نہ چلا رہے ہوں
۔ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں آئی اے ای اے کا "اضافی پروٹوکول" شامل نہیں ہوگا، جس کے تحت ایجنسی کو مزید سخت نگرانی، معائنے اور تصدیقی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔وائٹ ہاؤس اور سعودی حکام نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔امریکی محکمہ توانائی نے بھی اس معاملے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز نصب ہوئے تو مستقبل میں وہاں جوہری ہتھیاروں کا پروگرام شروع ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے ،ٹرمپ نے سعودیہ کو ممکنہ یورینیم افزودگی کا راستہ فراہم کردیا۔ ماہرین کے مطابق صرف یورینیم افزودگی سے جوہری ہتھیار نہیں بن جاتے ، کیونکہ اس کے لیے کئی دیگر پیچیدہ مراحل بھی درکار ہوتے ہیں، مثلاً ہم آہنگ دھماکا خیز مواد کی تیاری۔ تاہم یورینیم افزودگی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کی جانب اہم قدم تصور کی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک ایران کے پروگرام پر بھی تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔سعودی عرب کے پڑوسی متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ "123 معاہدہ" کر کے جنوبی کوریا کے تعاون سے براکہ جوہری بجلی گھر تعمیر کیا تھا، تاہم اس معاہدے میں امارات نے یورینیم افزودگی کا حق طلب نہیں کیا تھا۔
عدم پھیلاؤ کے ماہرین اسی ماڈل کو جوہری تعاون کے لیے "گولڈ اسٹینڈرڈ" قرار دیتے ہیں۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے جوہری بم حاصل کیا تو سعودی عرب بھی ایسا کرے گا۔امریکی محکمہ توانائی نے بدھ کو اعلان کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کا معاہدہ کر لیا ہے ۔ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے ہمراہ اس معاہدے پر دستخط کیے ، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری تحفظات سے متعلق ایک الگ دوطرفہ معاہدہ بھی طے پایا۔امریکی محکمہ توانائی نے اپنے بیان میں کہایہ دونوں معاہدے مل کر کئی دہائیوں پر محیط، اربوں ڈالر مالیت کی شراکت داری کی قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جو متعدد اہم اقتصادی اور تزویراتی اہداف کو آگے بڑھائے گی، جن میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام بھی شامل ہے ۔دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن نے معاہدے کو اسرائیل کیلئے سٹریٹیجک تباہی قرار دے دیا۔سابق وزیر دفاع اویگدور لائیبرمین نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بالآخر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی طرف چلا جائے گا، اسرائیل کو اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کرنی چاہیے ، امریکا سعودی عرب جوہری معاہدہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے ، سعودی عرب کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا ایک سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے ۔اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک نے کہا ہے کہ معاہدے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوئی شرط شامل نہیں، جو ان کے بقول نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان اعتماد میں کمی کی علامت ہے ۔نیتن یاہو کی غلط پالیسیوں نے سعودی عرب کے لیے ناممکن کو ممکن بنادیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments