کرپشن سکینڈل ،سابق ملائیشین رہنما نجیب رزاق کو مشروط معافی

 کرپشن سکینڈل ،سابق ملائیشین رہنما نجیب رزاق کو مشروط معافی

12 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر باقی سزا گھر میں نظر بندی کے تحت گزارنے کی اجازت

کوالالمپور(اے ایف پی)سابق ملائیشین رہنما نجیب رزاق، جو کرپشن سکینڈل میں کردار ادا کرنے کے جرم میں قید ہیں، کو گزشتہ روز 12 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے کی شرط پر باقی سزا گھر میں نظر بندی کے تحت گزارنے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔وزیراعظم انور ابراہیم کے دفتر کے وکلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بادشاہ سلطان ابراہیم نے نجیب رزاق کو "مشروط معافی"دی ہے ، جس کے تحت وہ اپنی باقی سزا 23 اگست 2028 تک گھر میں نظر بندی کے دوران پوری کر سکیں گے ۔بیان کے مطابق اس مشروط معافی کی ایک شرط 50 ملین ملائیشین رنگٹ (تقریباً 12.3 ملین ڈالر)جرمانے کی ادائیگی ہے ۔گزشتہ سال کے آخر میں ملائیشیا کی ایک عدالت نے نجیب کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں انہوں نے اپنی باقی سزا گھر پر گزارنے کی اجازت مانگی تھی۔

نجیب کو جولائی 2020 میں ایک مقدمے میں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔  یہ مقدمہ سابق سرکاری سرمایہ کاری فنڈ 1MDB کی ذیلی کمپنی SRC International Sdn Bhd سے بھاری رقوم نکالے جانے سے متعلق تھا۔ دسمبر میں گھر پر نظر بندی کی درخواست مسترد ہونے کے چند روز بعد نجیب کو ایک دوسرے مقدمے میں مزید 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ مقدمہ بھی 1MDB کرپشن سکینڈل سے متعلق تھا۔اس مقدمے میں نجیب پر 11.4 ارب ملائیشین رنگٹ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ نجیب اس 15 سالہ سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ یہ سزا ان کی موجودہ چھ سالہ سزا مکمل ہونے کے بعد شروع ہونا طے ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...