البانیا: 117 سالہ خاتون نے 5 نسلیں دیکھ لیں، عالمی ریکارڈ کی منتظر
قاملے 1909کو پیدا ہوئیں،تصدیق کے بعد معمر ترین خاتون کا اعزاز مل سکتا قاملے مارا روزانہ جھاڑو ، پھولوں کو پانی اور مرغیوں کو دانہ ڈالتی
کوووا، البانیہ (اے ایف پی) البانیہ کی 117 سالہ قاملے مارا اپنی غیر معمولی عمر کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، تاہم انہیں دنیا کی معمر ترین خاتون تسلیم کیے جانے سے زیادہ زندگی کے معمولات اور خوشیوں سے دلچسپی ہے ۔سرکاری دستاویزات کے مطابق قاملے مارا 19 اگست 1909ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کی تاریخ پیدائش کی تصدیق ہو جائے تو وہ دنیا کی معمر ترین زندہ خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کر سکتی ہیں۔ اس وقت گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق برطانیہ کی ایتھل کیتھرہم دنیا کی معمر ترین زندہ خاتون ہیں۔دارالحکومت تیرانا سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب میں واقع گاؤں فیراس میں رہنے والی قاملے مارا نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کھیتی باڑی اور مویشی پالنے میں گزارا۔ ان کا کہنا ہے کہ زندگی ایک خوب صورت پہاڑ کی مانند ہے جو پھولوں سے ڈھکا ہو۔قاملے مارا کے خاندان کے پاس ان کی عمر کے ثبوت کے طور پر 1945 کا پیدائشی سرٹیفکیٹ، 1978 کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ موجود ہیں۔
ان کے اہل خانہ نے عالمی ریکارڈ کے لیے گنیز ورلڈ ریکارڈز سے بھی رابطہ کیا ہے ۔ان کے 80 سالہ بیٹے حسین کے مطابق، والدہ کی عمر 100 سال ہونے پر حکام نے ان کی پنشن روک دی تھی، کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں۔ بعد ازاں ضروری ثبوت پیش کرنے پر پنشن بحال ہوئی اور حکومت نے انہیں خصوصی پنشن بھی جاری کی۔قاملے مارا روزانہ صبح جلد اٹھتی ہیں، صحن میں جھاڑو دیتی، پھولوں کو پانی دیتی اور مرغیوں کو دانہ ڈالتی ہیں۔ وہ آج بھی باغ میں چہل قدمی کرتی ہیں اور تازہ پھلوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ ان کے بیٹے کا دعویٰ ہے کہ والدہ نے کبھی دوا استعمال نہیں کی،انہوں نے پانچ نسلوں کی زندگی دیکھ لی ہے ۔قاملے مارا کے سات بچے ہیں اور وہ اپنے خاندان کی پانچ نسلوں کو پروان چڑھتے دیکھ چکی ہیں۔ شوہر کو دنیا سے رخصت ہوئے 36 برس گزر چکے ہیں، مگر وہ آج بھی اپنی ازدواجی زندگی کو خوش گوار یادوں کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔ ان کے بقول، زندگی کی اصل خوشی اپنے پیاروں کو ساتھ دیکھنے میں ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments