ہماری تنصیبات کو نشانہ بنایا تو آبنائے ہرمز کے نیچے انٹرنیٹ کیبلز کاٹ دینگے :ایران :عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 116 ڈالر سے بھی اوپر
کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ کی رفتار سست ، مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی،بحیرہ احمر زیادہ اہم ہدف ثابت ہوسکتا حوثیوں کے سعودیہ پر4حملے ،وزارت دفاع کی عمارت ،2ایئرپورٹس،آرامکو تنصیب کو نشانہ بنانیکا دعویٰ،ریاض ،نجران پر داغے بیلسٹک میزائل تباہ
دبئی ،ریاض(رائٹرز،مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کر لیے ،ایران کے دو سینئر سکیورٹی حکام نے رائٹرز کو بتایاکہ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو تہران ان کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ تہران ان حملوں کو کہاں اور کس طریقے سے انجام دے گا، ایک عہدیدار نے کہا ایران پر حملہ کیا گیا تو زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، بشمول خفیہ اڈوں کی کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔انہوں نے واشنگٹن کو آگ سے نہ کھیلنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ایران کو زیرِ سمندر کیبلز تک مکمل رسائی حاصل ہے اور وہ انہیں با آسانی تباہ کر سکتا ہے ۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبئہ سیاسی امور کے نائب سربراہ یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا تھا کہ اگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ایران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے ۔ تاہم، ٹیلی کمیونی کیشنز کی تحقیقی کمپنی ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن کے مطابق، آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ گزرتا ہے ، اس لیے وہاں ایرانی حملوں کے عالمی اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے ۔ اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نیٹ ورک آپریٹرز ٹریفک کو متبادل راستوں پر کس حد تک منتقل کر سکتے ہیں اور ان راستوں میں کتنی گنجائش موجود ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے ، کیونکہ سکیورٹی خطرات، انشورنس کے بڑھتے اخراجات اور علاقائی پانیوں میں داخلے کے اجازت ناموں میں تاخیر سے بحالی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے ۔بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز کے مقابلے میں، زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کے لیے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے ، خصوصاً اگر ایران کو یمن میں اپنے اتحادی حوثیوں کی مدد حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے عوامی سطح پر بحیرۂ احمر میں کیبلز کو نشانہ بنانے کے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔ ٹیلی جیوگرافی کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والے ڈیٹا راستوں کی گنجائش عالمی بین الاقوامی ڈیٹا طلب کا تقریباً تین فیصد اور مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک کا تقریباً 10 فیصد ہے ۔انٹرنیٹ ٹریفک کے لیے متبادل راستے فراہم کرنے کی غرض سے خلیجی ممالک اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں زمینی رابطوں اور اضافی مواصلاتی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
مائیکروسافٹ نے 2030 تک مشرقِ وسطیٰ میں زیرِ سمندر اور زمینی رابطوں کے نظام پر 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ادھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے سبب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 116 ڈالر سے بھی اوپر پہنچ گئیں۔حوثیوں نے 48گھنٹے کے دوران سعودیہ پر 4حملے کرنے کا دعویٰ کیاہے جبکہ سعودی فوجی اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے نجران اور ریاض کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل مار گرائے اورڈرونز مارگرائے ۔حوثیوں کے فوجی ترجمان یحیی سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گروہ نے 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے اندر چار فوجی کارروائیاں کی ہیں، جن میں ریاض میں واقع سعودی وزارتِ دفاع کی عمارت، کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ینبع میں واقع آرامکو کی ایک تنصیب اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے شامل ہیں،یہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کئے گئے ،ایکس پر جاری اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ۔سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں کی جانب سے نجران اور ریاض کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل مار گرائے ، سعودی عرب کے جنوبی خطوں پر داغے گئے حوثیوں کے 2 ڈرونز بھی مار گرائے ۔ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مار گرائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments