ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

موجودہ دور‘ صدی کا سب سے مصائب زدہ دور

تحریر: پروین کمال

موجودہ دور اس صدی کا سب سے زیادہ مصائب زدہ دورکہلایا جائے گا جس میں سانس لینے والے تمام انسان اپنی زندگیوں کوہمیشہ خطرات کے درمیان گھرا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ دنیا بھر کے دانشور مل کر بھی دنیا کو ان خطرات سے بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ اب ان حالات کے پیشِ نظر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہ طبقات‘ جو حالات کی زد میں آکر زندگی کی ہر ضرورت سے محروم ہوچکے ہیں‘ وہ جائیں تو آخر جائیں کہاں؟ ان بے گھر افراد کو کوئی سہارانہ ملنے کی وجہ سے وہ غیر قانونی اور شدت پسند تحریکوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں احتجاجی تحریکوں کے ذریعے بہت کچھ منوایا گیا تھا لیکن حالیہ دور میں ان تمام تحریکوں کو طاقِ نسیاں کردیا گیا ہے۔ آج کا انسان اُصول کی جنگیں اور حق و انصاف کے لیے آواز بلند کرنا بھول چکا ہے۔ ان محروم افراد کے ذہنوں میں ایک ہی بات گرد ش کررہی ہے کہ کسی طرح غیرقانونی طریقے سے وہ سب کچھ حاصل کرلیا جائے جو وہ چاہتے ہیں۔ ان کی یہی سوچ دنیا کے امن و سکون کو متزلزل کررہی ہے۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے یورپ کا ماحول بھی بہت زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ 

وہ ملک جو جنگ یا خانہ جنگی کی زد میں ہیں‘ وہاں سے پناہ گزینوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ کا رُخ کرنے والے افراد میں چند ایسے بھی ہیں جو اعلیٰ پیمانے پر زندگی گزارنے کے شوق میں چلے آتے ہیں اور جو حقیقت میں ضرورت مند ہیں ان کی دادرسی نہیں ہوتی۔ امدادی کیمپوں میں ہجوم کی وجہ سے ’’ خسرہ ‘‘ جیسی مہلک اور وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ یورپ میں پناہ گزینوں میں زیادہ تعداد افریقہ کے مختلف شہروں سے آنے والوں کی ہے، ان کے علاوہ یوکرینی جنگی پناہ گزین بھی ہیں، نیز دیگر ممالک سے بھی یلغار ہے۔ یوکرینی پناہ گزینوں کے ساتھ اس احساس کے تحت ان کے کیس کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کہ وہ میزائلی جنگ کا شکار ہیں اور ان کی زندگیوں کو یوکرین میں بہت زیادہ خطرہ تھا لیکن دیگر ممالک زیادہ ہنگامی حالات سے نہیں گزررہے ہیں اسی لیے انہیں روکنے کے لیے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ 

اس سال دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی تعداد میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ کوئی معمولی اضافہ نہیں ہے۔ یہ افراد سمندری راستہ سے یورپ کے کسی نہ کسی ملک پہنچ جاتے ہیں۔ کسی ضابطے یا کسی قانون پر وہ عمل کرنا نہیں چاہتے، چاہے کتنے ہی خطرات سے گزرنا پڑے وہ یورپ تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ سرحدوں سے تھوڑی دوری پر تار کانٹوں کی دیواریں لگائی جارہی ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق: دراصل یہ مشکلات دنیا کی آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث پیدا ہورہی ہیں۔ اس بات کی پیش گوئیاں برسوں سے ہورہی ہیں کہ اگر آبادی کا گراف اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو قحط سالی کی زد میں بہت سارے ملک آسکتے ہیں۔ کیونکہ دنیا بھر میں شورش کے بعد یہ نتائج سامنے آرہے ہیں کہ دنیا کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اتنا ہی خوراک کی پیداوار میں کمی واقع ہورہی ہے۔ آبادی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو اس فہرست میں براعظم افریقہ کا نام سرفہرست ہوگا، وہاں کی عورتیں حسبِ رواج سات سے آٹھ بچے پیدا کرتی ہیں،خواہ ملک میں قحط پڑ جائے یاپھر پانی کی ایک بوند بھی نہ ملے لیکن یہ وہاں کا دستور ہے اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ یوںدنیا کی مجموعی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔ 

پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں زیادہ تر افریقی باشندے ہی ہیں۔ اب یہاں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آبادی میں طوفانی اضافے کی وجہ سے ہی قحط سالی ہورہی ہے۔ اناج کافی نہیں ہوگا تو ظاہر ہے کہ روٹی کی قلت ہوگی جس کے باعث انہیں ترکِ وطن کرنا ضروری ہوجاتا ہے، اسی وجہ سے وہ جان پر کھیل کر بحیرۂ روم کے راستے یورپی یونین کے کسی بھی ملک میں پہنچ جاتے ہیں لیکن وہاں اپنا کیس درج نہیں کرواتے۔ حالانکہ قانون کے مطابق انہیں پناہ کی درخواست اسی ملک میں دینی چاہیے جہاں وہ پہلی بار اُترے ہوں۔ غرض وہ وہاں نہیں ٹھہرتے بلکہ آگے کی طرف بڑھتے ہوئے سیدھے جرمنی پہنچ جاتے ہیں جس کو پورے یورپ کی اقتصادی شہ رگ مانا جاتا ہے اور جس کی وجہ سے جرمنی کو یورپ میں ایک منفرد مقام ملا ہوا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو پناہ گزینوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ یہ سچائی بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ ان پریشان حال انسانوں کے لیے جرمن قوم کے دلوں میں انتہائی نرم گوشہ ہے۔ وہ ان کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں اور کسی طرح انہیں اپنے ملک میں قیام پذیر ہونے کا موقع دیتے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے۔

اب ہم جرمنی کے ماضی کی طرف نظر ڈالتے ہیں۔ مکمل چھ سال تک جاری رہنے والی دوسری عالمی جنگ‘ جو جرمنی سے شروع ہوئی تھی‘ اس میں جرمنی کو شکست ہوئی تھی۔ ان ناگزیر حالات میں جرمنی اپنے پارہ پارہ وجود کو لے کر یوں کھڑا تھا جیسے صحرا میں ایک چھوٹا سا پودا‘ جو ہوا کے ایک جھونکے سے کسی وقت بھی اُکھڑ سکتا ہو۔ یعنی بنیادی طور پر جرمنی مسمار ہوچکا تھا لیکن جرمن قوم کے حوصلے بلند تھے۔ وہ شکست کھاکر دوبارہ کھڑی ہونے کے لیے کوشاں تھی۔ بلا تکان وہ آگے بڑھنے کی کوشش میں لگی رہی۔ اگرچہ شکست کے بعد محض جرمنی کی طاقت کو توڑنے کے لیے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا اور مشرقی جرمنی پر سوویت یونین کا تسلط قائم ہوگیا اور وہاں کمیونسٹ نظام رائج کردیا گیا جبکہ مغربی جرمنی برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے زیر اثر رہا اور وہاں جمہوریت قائم کردی گئی۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں جرمنی دو متضاد نظام کے تحت چلتے رہے تو کیسے ؟ کتنا مشکل ہوتا ہے کمیونزم میں سانس لینا۔ ایسے میں برسوں جرمن قوم نے اپنے صبر اور حوصلہ کا امتحان دیا اور پھر ایک وقت آیا جب 45 برس بعد دونوں جرمنی متحد ہوئے۔ 

یہ ایک حیرت انگیز اتحاد تھا جس پر دنیا اس لیے بھی ششدر ہوگئی کہ دو متضاد نظاموں میں چلنے والے اکٹھے کیسے رہ پائیں گے۔ لیکن آج 33 برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے وہ ایسے گھل مل گئے ہیں جیسے کبھی الگ ہوئے ہی نہیں تھے۔ یہ ان کی آپس کی محبت اور حب الوطنی کا جذبہ تھا کہ 45 سال کا طویل عرصہ بھی ان کے درمیان دوریاں اور اجنبیت پیدا نہ کرسکا۔ خاص طور پر مغربی جرمنی کے باشندوں کے حوصلے بلند تھے کہ انہوں نے فراخدلی سے اپنی برادری کو قبول کیا۔ اس کے علاوہ برباد شدہ جرمنی کو اتنی اونچائی پر لانے کا سہرا اس وقت کے سیاست دانوں اور دانشوروں کے سر جاتا ہے جو اپنی محنت اور لگن سے اپنے ملک کو اس مقام پر لائے ہیں اور ان کی ایمانداری کا انہیں ثمر ملا ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو یکسر نظرانداز کرکے ملک و قوم کی خوشحالی اور ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے سارے کام انجام دیے۔ ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح شکست خوردہ جرمنی کو دنیا کے نقشے پر نمایاں حیثیت کا حامل ہو جائے۔ یہ منصوبہ کامیاب ہوا اور آج جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معاشی طاقت مانا جاتا ہے۔ یہ کارنامہ لائقِ تقلید ہے۔

(بشکریہ: سیاست انڈیا)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں