اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موسمی امراض کا پھیلاؤ

ملک کے میدانی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے سے سردی سے متعلقہ امراض‘ بالخصوص وائرل انفیکشنز کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق حالیہ ایک ہفتے کے دوران لاہور کے پانچ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سپر فلو اور دیگر موسمی امراض کے 40 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے یہی معمول ہے اور شہر کے بڑے ہسپتالوں میں روزانہ اوسطاً آٹھ ہزار مریض رپورٹ ہونا عوامی صحت کے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کا غیرمعمولی رش اس امر کا متقاضی ہے کہ اس صورتحال کے اسباب کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے اور انفرادی و اجتماعی سطح پر فوری اقدامات کیے جائیں۔ سپر فلو اور موسمی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی ہے۔

بارشوں کی کمی کے باعث فضا میں آلودہ ذرات اور وائرس زمین پر نہیں بیٹھتے بلکہ ہوا میں معلق رہتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ہسپتالوں میں ادویات اور عملے کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ حکومت کو اس حوالے سے آگاہی مہمات بھی چلانی چاہئیں کہ عوام کو موسمی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ علاوہ ازیں آلودگی کے مستقل تدارک کے اقدامات پر بھی سنجیدگی سے عمل کرنا چاہیے تاکہ فضا صاف ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں