برآمدات میں کمی
وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی(جولائی ۔دسمبر) میں برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 8.5فیصد کمی ہوئی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات کا حجم 16ارب 60کروڑ ڈالر تھا جو رواں مالی سال 15 ارب20کروڑ ڈالر رہا۔ جولائی تا دسمبر غذائی اجناس کی برآمدات میں 40فیصد‘ پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43 فیصد‘ فارماسیوٹیکل مصنوعات میں 28 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ برآمدات میں کمی کی سب سے بڑی وجہ مہنگی توانائی ہے‘ دیگر مسائل میں پیداوار میں کمی‘ صنعتی اور معاشی پالیسیوں کا عدم تسلسل‘ سرمایہ کاری میں کمی اور ٹیکسوں کا بھاری بوجھ شامل ہیں۔ حکومت کو برآمدات میں بہتری کیلئے فوری اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ صنعتی پیداوار کو فروغ دینے کیلئے سستی اور بلاتعطل توانائی کی فراہمی بنیادی شرط ہے۔

زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے کسانوں کو سستی اور معیاری زرعی مداخل کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور معیار بہتر ہو۔ علاوہ ازیں ٹیکس‘ ریگولیٹری ڈیوٹیز اور دیگر مالی رکاوٹوں میں کمی بھی ناگزیر ہے تاکہ برآمد کنندگان کا سرمایہ کاری کیلئے اعتماد بحال ہو۔ برآمدات میں کمی صرف وقتی بحران نہیں بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی کیلئے ایک انتباہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ برآمدات کی پالیسی کو واضح‘ مستحکم اور سرمایہ کار دوست بنائے‘ اور طویل مدتی اصلاحات کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم اور عالمی منڈیوں کیلئے مسابقتی بنائے۔