کراچی، سانحات کا تسلسل
کراچی کے علاقے صدر میں واقع گل پلازہ کی آتشزدگی قومی سانحہ ثابت ہوئی ہے۔ 33گھنٹوں بعد آگ پر قابو پا لیا گیا اور ریسکیو حکام نے 26اموات کی تصدیق کر دی تاہم ضلعی انتظامیہ کے پاس 74 افراد کے لواحقین نے گمشدگی کا اندراج کروا رکھا ہے۔ آتشزدگی کا یہ المناک حادثہ کئی حوالوں سے حکومتی اور انتظامی ناکامی کو واضح کرتا ہے۔ شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی اس آگ نے دو کروڑ سے زائد آبادی والے میگا سٹی کے فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کی قلعی کھول دی ہے۔ شہر کے مصروف کمرشل علاقے میں لگنے والی آگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ شہر کے باسیوں کی زندگی بے انتظامی کے رحم وکرم پر ہے۔عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے ابتدائی ایک گھنٹے تک کوئی مؤثر امدادی کارروائی شروع نہ ہو سکی۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جب جائے حادثہ پر پہنچیں تو کسی کے پاس پانی ختم تھا اور کسی کی سیڑھیاں اتنی بلند نہ تھیں کہ چار منزلہ پلازے کی آگ بجھا سکتیں۔ ریسکیو آپریشن میں تاخیر اور آلات کی کمی نے اُن لاچارافراد کو بھی موت کے منہ میں دھکیل دیا جو کھڑکیوں سے مدد کیلئے پکار رہے تھے۔

یہ بالکل وہی مناظر تھے جو اس سے قبل نومبر 2023ء میں راشد منہاس روڈ پر واقع شاپنگ مال کی آتشزدگی کے وقت دیکھنے کو ملے تھے‘ جس میں 11افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اُس وقت بھی حکومت اور انتظامیہ نے بلند بانگ دعوے کیے تھے کہ تمام بلند وبالا عمارتوں کا سیفٹی آڈٹ کیا جائے گا اور بغیر ایمرجنسی ایگزٹ والی عمارتوں کو سیل کر دیا جائے گا مگر وہ تمام اعلانات وقتی بیان بازی ثابت ہوئے اور عملی اقدام میں نہ ڈھل سکے۔ گزشتہ دو برس میں کراچی میں نہ کسی بلڈنگ کا آڈٹ ہوا‘ نہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کرایا گیا اور نہ ہی نئی بننے والی عمارتوں میں حفاظتی نقطہ نظر سے قواعد پر عملدرآمد میں سختی برتی جارہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ شہرِ قائد میں ہر چند سال بعد انتظامی غفلت کے یہ مظاہر اب اندوہناک روایت بن چکے۔ 2012ء کا بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ ہو یا حالیہ برسوں میں ہونیوالے کیمیکل فیکٹریوں کے دھماکے‘ ہر حادثے کے بعد ایک جیسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
شہر میں ہر سال اوسطاً 2500سے زائد چھوٹے بڑے آتشزدگی کے واقعات ہوتے ہیں‘ جن میں اربوں کے نقصانات کے علاوہ سینکڑوں انسانی جانوں کا نقصان بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ ہر بار انکوائری کا اعلان کیا جاتا ہے‘ تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی ہیں مگر رپورٹس یا تو منظر عام پر نہیں آتیں یا پھر انکی سفارشات کو نظر انداز کر کے اگلے سانحے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ شہر میں بلند وبالا عمارتیں تو کھڑی کر دی گئیں لیکن ان میں فائر ایگزٹ اور آگ بجھانے والے سپرنکلر سسٹم کا تصور تک موجود نہیں۔ تجارتی مراکز ہوں یا رہائشی علاقے‘ تنگ گلیاں‘ تجاوزات کی بھرمار اور لٹکتے ہوئے بجلی کے تار از خود حادثات کو دعوت دیتے اور امدادی کاموں کی راہ میں بڑی رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔کراچی کے سانحات اور ناقص سرکاری کارکردگی اس امر کی شہادت ہے کہ شہروں کا حجم جب حد سے بڑھ جائے تو ناقابلِ انتظام ہو جاتا ہے۔
اسکا حل اختیارات کی تقسیم اور چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل میں ہے۔ کراچی کی آبادی اس وقت ڈھائی کروڑ کے قریب ہے‘ اس لحاظ سے کراچی آبادی کے لحاظ سے درجنوں ملکوں سے بڑا شہر ہے‘ مگر مسائل کے حل کی حکمت عملی اور کارکردگی گل پلازہ اور اس جیسے دیگر واقعات سے ظاہر ہے۔ انتظامی نااہلی کے یہ ثبوت واضح کرتے ہیں کہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل ناگزیر ہے کہ یہی اس گنجان آباد اور تیزی سے بڑھتی آبادی والے ملک کے شہری مسائل کو حل کرنے کی واحد صورت ہے۔ اس حقیقت سے پہلوتہی شہریوں کی زندگیوں کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ کراچی کے مسائل کراچی تک محدود نہیں‘ لاہور سمیت ملک کے سبھی بڑے شہر انتظامی بنیادوں پر تقسیم کے خواہاں ہیں کہ گورننس کی بہتری اسی سے ممکن ہے۔