سلنڈر دھماکا
گزشتہ روز بلوچستان کے شہر چمن میں ایک گھر میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اور 20سے زائد زخمی ہو گئے۔ چمن پولیس کے مطابق 20 کلو وزنی سلنڈر پھٹنے سے گھر کے متعدد کمرے منہدم ہو گئے اور قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ افسوسناک امریہ ہے کہ ملک میں گیس سلنڈر دھماکوں کا یہ واحد واقعہ نہیں ہے۔ رواں ماہ کراچی میں ایک سلنڈر دھماکے میں 16 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہوئے ایک سلنڈر حادثے میں 8 افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ گزشتہ تین برس میں صرف پنجاب میں ایل پی جی گیس کے 488 حادثات رپورٹ ہو چکے جن میں 25 افراد جاں بحق اور 240 سے زائد زخمی ہوئے۔

گزشتہ دس سال کے ایسے واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو 44فیصد واقعات رہائشی اور 41فیصد تجارتی علاقوں میں ہوئے۔ ناقص یا غیرمعیاری سلنڈر‘ حفاظتی اقدامات کی کمی‘ پائپ‘ ریگولیٹر یا والو سے گیس کی لیکیج اور کھلی آگ کے قریب سلنڈر کا استعمال حادثات کی بڑی وجوہ ہیں۔ حکومتی سطح پر اس مسئلے کے حل کیلئے عوامی آگاہی مہمات‘ وینڈرز کی نگرانی‘ معیاری سلنڈر اور حفاظتی آلات کی فروخت اور ہنگامی حالات میں بروقت امدادی خدمات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ فائبر سلنڈر‘ معیاری پائپ و ریگولیٹر کے استعمال سے دھماکوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔