دہشت گردوں کے خلاف آپریشن
گزشتہ دو روز میں افواجِ پاکستان کی سینی ٹائزیشن مہم کے دوران خیبرپختونخوا کے علاقوں شمالی وزیرستان‘لکی مروت اوربنوں میں پانچ مختلف کارروائیوں کے دوران 26 خوارج اور بلوچستان کے ضلع ژوب میں فتنہ الہندوستان کے 10 دہشت گرد ہلاک ہو چکے۔ سکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات امن و امان اور ملکی معیشت کیلئے سنگین خطرہ ہیں‘ مگر یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ دہشت گرد اپنی شرانگیز کارروائیوں سے وقتی طور پر تو نقصان پہنچا سکتے ہیں مگر ان کی شکست نوشتۂ دیوار ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیاب حکمتِ عملی کا ناگزیر تقاضا ہے کہ قومی سطح پر اتفاق و اتحاد قائم کیا جائے اور سماج میں دہشت گردوں کیلئے نرم گوشے کا کوئی تصور بھی باقی نہ رہنے دیا جائے۔

اس کیلئے فعال سماجی اداروں اور متحرک قیادت ضروری ہے جو شدت پسندی کا مقابلہ مؤثر جوابی بیانیے سے کرے اور اس سوچ کے معاشرے میں پنپنے کے خلاف سدِ راہ ثابت ہو۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حالات کی سنگینی کا ادراک کریں اور انتظامی‘ سماجی اور سیاسی سطح پر متحد ہو کر دفاعی اداروں کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کریں۔ دہشت گردی کے خطرات کے سدباب کیلئے سب سے زیادہ اہم سیاسی وسماجی ہم آہنگی ہے‘ جو دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔