وقتی ریلیف اور مستقل معاشی استحکام
سعودی عرب کی جانب سے دو ارب ڈالر کے نئے ڈپازٹ کی وصولی اور موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی تین سال کیلئے رول اوور کی پیشرفت بلاشبہ ملکی معیشت کیلئے ایک بڑے اور فوری ریلیف کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت جب ملک کو بیرونی ادائیگیوں‘ زرمبادلہ کے دباؤ اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے درمیان توازن قائم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے‘ یہ مالی معاونت وقتی طور پر استحکام کی ایک مضبوط دیوار فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر کا بڑا انحصار اب بھی دوست ممالک کی مالی معاونت اور قرضوں پر ہے۔ مستقل معاشی استحکام کیلئے قرضوں کے بجائے ملکی آمدن میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس مقصد کیلئے برآمدات میں نمایاں اضافہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

پاکستان کو اپنی برآمدی بنیاد کو وسیع اور متنوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ زرمبادلہ کے مستقل ذرائع پیدا ہو سکیں۔ اس کیساتھ ساتھ صنعتی اور زرعی شعبوں میں پیداواری لاگت کم کرنے اور مراعات کے ذریعے مسابقت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو برآمدات کو فروغ دے کر بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔ مزید برآں ٹیکس نیٹ کی توسیع‘ غیر رسمی معیشت کی دستاویزی شکل اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی بھی دیرپا معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں۔ موجودہ پیشرفت ایک وقتی ریلیف ضرور لیکن ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملک کو قرضوں کے چکر سے نکال کر پائیدار معاشی ترقی کی سمت بڑھانا ہو گا۔