لوڈشیڈنگ کا حل پائیدار توانائی پالیسی
گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ ہی طویل لوڈ شیڈنگ عوام کیلئے شدید کربناک ہو چکی ہے۔ اگرچہ لوڈ شیڈنگ ملک کا دیرینہ مسئلہ ہے تاہم گزشتہ روز پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا کہنا تھا کہ ایندھن کی فراہمی میں تعطل اور ایل این جی نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے‘ یہ عارضی لوڈشیڈنگ ہے‘ ایل این جی آنے اور پن بجلی کی پیداوار بڑھنے سے بجلی بحران ختم ہو جائے گا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی مجموعی طلب 20 سے 21 ہزار میگا واٹ ہے جبکہ بجلی کی پیداوار 14ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔ اس وقت چار سے پانچ ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے جبکہ زیادہ کھپت کے دورانیے میں یہ فرق چھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ پیداوار اور طلب کے اس بڑے فرق کی وجہ سے ملک بھر میں چھ سے سولہ گھنٹے کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

یہ صورتحال گرمی کے اس موسم میں گھریلو صارفین کیلئے تو اذیت کا باعث ہے ہی‘ ملکی صنعتوں کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ پیداواری عمل میں بار بار خلل سے نہ صرف اشیا کا معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ متبادل مہنگے ذرائع سے لاگت بھی بڑھ جاتی ہے‘ جس سے مسابقت متاثر ہوتی ہے اور بالآخر اس کا خمیازہ کم پیداوار اور بیروزگاری کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ حکومت کا یہ کہنا ایک حد تک درست کہ اس بحران کی بڑی وجہ ایل این جی کی قلت ہے مگر دیکھا جائے تو بجلی کے پیداواری اور تقسیم کار شعبے تہ در تہ مسائل کے سبب مجسم بحران بن چکے ہیں۔ بجلی کی طلب اور رسد کا مسئلہ محض آج کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اس مسئلے سے نبرد آزما ہے۔ اس دوران کئی حکومتیں آئیں اور گئیں‘ بجلی کے مہنگے ترین منصوبے مکمل ہوئے مگر لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بدستور ہے۔ گزشتہ چار‘ پانچ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر کے اسے عوام کیلئے ناقابلِ رسائی بنا دیا گیا مگر اس کے باوجود بھی حکومت صارفین کی بجلی کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہی۔ اس وقت ملک کی کُل بجلی کی پیداوار کا تقریباً 52فیصد ملکی ذرائع جبکہ 46فیصد سے زائد درآمدی گیس اور تیل پر منحصر ہے۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدات میں مشکلات کی وجہ سے پاور پلانٹس اس وقت اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر پا رہے۔ گیس پر چلنے والے پلانٹس یا تو بند پڑے ہیں یا انتہائی کم صلاحیت پر چل رہے ہیں جس سے نیشنل گرڈ میں بجلی کی فراہمی کم ہو گئی ہے۔
یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹ تو حالیہ ایک ڈیڑھ ماہ کا مسئلہ ہے‘ اس سے قبل بھی لوڈ مینجمنٹ اور بجلی چوری کی روک تھام کی خاطر چند گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ معمول کا حصہ تھی۔ درحقیقت پاکستان کا مجموعی انرجی سٹرکچر اس بحران کا حقیقی ذمہ دار ہے۔ درآمدی تیل وگیس پر حد سے زیادہ انحصار ملکی معیشت کیلئے میٹھا زہر ثابت ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ بجلی کی قیمتیں بھی اتار چڑھائو کا شکار رہتی ہیں۔ جب تک ہم مہنگے درآمدی ایندھن کے بجائے مقامی اور سستے ذرائع کی طرف نہیں بڑھیں گے‘ گردشی قرضوں اور شارٹ فال کا یہ گورکھ دھندہ ختم نہیں ہوگا۔ حکومت کو روایتی تھرمل پاور پلانٹس کے بجائے قابلِ تجدید توانائی بالخصوص سولر انرجی کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح ہائیڈل اور ونڈ انرجی کے منصوبوں سے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ایک دیرپا اور مستقل توانائی پالیسی کے بنا بجلی کے بحران کا حل ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم عارضی بنیادوں پر فیصلے کر رہے‘ اب ہمیں ایک ایسی جامع انرجی پالیسی کی ضرورت ہے جو توانائی کی پیداوار میں مقامی ذرائع کا حصہ بڑھائے‘ ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کو کم کرے اور قوم کو لوڈشیدنگ کے عذاب سے مستقلاً نجات دلائے۔