آبی جارحیت اور ماحولیاتی المیہ
ماہرینِ جنگلات نے خبردار کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں درختوں کی تقریباً بیس مقامی اقسام معدومیت کے خطرے کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔ ان علاقوں میں آڑو‘ سیب‘ ناشپاتی اور زیتون کے باغات لاکھوں افراد کے معاش کا ذریعہ ہیں۔ اگر پانی کی قلت بڑھتی ہے اور دریاؤں کے بہاؤ میں مسلسل کمی واقع ہوتی ہے تو یہ باغات سوکھ سکتے ہیں جس سے خوراک کی قلت میں اضافہ ہو گا۔ یوں یہ بحران براہِ راست غربت‘ بے روزگاری اور بھوک کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ‘ جہلم اور چناب کے کناروں پر موجود دیودار اور صنوبر کے جنگلات اس پورے خطے کی ماحولیاتی توازن کی بنیاد ہیں۔

اگر یہ جنگلات متاثر ہوتے ہیں تو ہمالیہ کے خطے میں زمینی کٹاؤ‘ لینڈ سلائیڈنگ‘ آلودگی اور گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ جیسے خطرات میں اضافہ ہوگا۔ بھارت طویل عرصے سے پاکستان کے پانی پر مختلف طریقوں سے ڈاکہ ڈالتارہا ہے لیکن معرکۂ حق میں منہ کی کھانے کے بعد سے وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس مسئلے کو زیادہ شدت‘ تسلسل اور سفارتی حکمتِ عملی کیساتھ عالمی اداروں کے سامنے اٹھائے اور انہیں باور کرائے کہ بھارتی آبی جارحیت پر خاموشی ایک بڑے ماحولیاتی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔