اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم محصولات اور اثرات

عالمی عوامل اپنی جگہ مگر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کی ایک بڑی وجہ حکومتی محصولات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایشیا کے دیگر ممالک کی نسبت ملکِ عزیز میں پٹرول اور ڈیزل کے نرخ غیر معمولی طور پر زیادہ اور غیر مستحکم ہیں۔اس سلسلے میں پٹرولیم لیوی قابلِ ذکر ہے جس کی مد میں رواں مالی سال کے دوران تقریباً ڈیڑھ ہزار ارب روپے وصولی کا امکان ہے ‘ جو کہ 1468ارب روپے کے سالانہ ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ مالی سال کیلئے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1730ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت کی جارحانہ وصولیوں کے نتیجے میں مالی سال کے ساڑھے نو ماہ کے دوران ہی پٹرولیم لیوی کی مد میں1234ارب روپے وصول کیے جا چکے تھے۔ اس حساب سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ جون کے اختتام تک پٹرولیم لیوی کی مد میں وصولی 1550ارب روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

یہ پٹرولیم مصنوعات پر جارحانہ وصولی کی عکاسی کرتا ہے‘ جس کے نتیجے میں افراطِ زر میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اورکاروبار‘ صنعتیں اور عوام شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم یہ سلسلہ آنے والے مالی سال کے دوران بھی اسی طرح جاری رہنے کا اندیشہ موجود ہے۔ اس وقت پٹرول پر فی لٹر 117روپے جبکہ ڈیزل پر 43روپے پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے تاہم آئندہ مالی سال 1730ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے کیلئے پٹرولیم لیوی کی شرح میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس مد میں مزید دو ڈھائی سو ارب روپے کی وصولی کی دوسری کوئی صورت نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی شدید مہنگائی کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی کھپت پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔ رواں سال اپریل کے پہلے 15دنوں کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے انہی دنوں کی نسبت پٹرول کی فروخت میں 14فیصد اور ڈیزل میں 26فیصد کمی آئی۔ پٹرول اور ڈیزل کی کم ہوئی کھپت کی صورت میں لیوی کی شرح بڑھائے بغیر ریونیو کے مفروضہ اہداف حاصل ہونے کی امید نہیں اور لیوی بڑھانے سے قیمتوں میں جو اضافہ ہو گا اس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے اور کھپت میں کمی کا نتیجہ لیوی کی شرح میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے؛ چنانچہ بعید نہیں کہ آئی ایم ایف کی جانب سے دیے گئے نئے اہداف کے حصول میں پٹرول اور ڈیزل پر لیوی بالترتیب 117روپے اور 43روپے سے بڑھ جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے‘ جس کے اندیشے کو رد نہیں کیا جا سکتا‘ تو افراطِ زر کی شرح میں نمایاں اضافہ بھی خارج از امکان نہیں رہ جاتا۔ مہنگائی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بدیہی نتیجہ ہے۔

رواں سال کے معاشی اشاریے واضح طور پر یہ ثابت کررہے ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پچھلے تین ماہ کے دوران ہونے والے اضافے کی وجہ سے افراطِ زر سالانہ بنیادوں پر 11فیصد تک پہنچ چکا ہے اور سٹیٹ بینک شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی ایک مسئلہ ہے تاہم پٹرولیم لیوی کی مد میں غیر معمولی اضافہ اور ہدف سے بھی آگے نکل جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ منہ زور مہنگائی اور معاشی کساد بازاری کی بنیادکہاں ہے۔ اگر ہمارے معاشی منصوبہ سازوں کی نظر میں پٹرولیم لیو ی کو بڑھاتے جانا محصولات جمع کرنے کا سستا اور آسان حل ہے تو انہیں اس تصویر کے دوسرے رخ کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ‘جو معاشی حوالے سے بڑی مہیب منظر کشی کرتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر حکومتی محصولات کو بڑھا تے چلے جانے سے حکومت کو آسانی سے مالی وسائل حاصل ہو رہے ہیں مگر اس سہل طلبی نے ہماری معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘ اس حقیقت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں