گردشی قرضے کا چکر
آئی ایم ایف کی ششماہی جائزہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 5206 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس میں بجلی کے شعبے کا گردشی قرض 1764 ارب جبکہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض 3442 ارب روپے ہے جو مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 2.7 فیصد کے برابر بنتا ہے۔رپورٹ کے مطابق چھ ماہ کے دوران بجلی کے گردشی قرضے میں 150ارب روپے اور گیس کے گردشی قرضے میں 159ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ گردشی قرض بجلی پیدا اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان ادائیگیوں کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے پوری رقم وصول نہ کرپانے کے باعث بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو مکمل ادائیگی نہیں کرپاتیں یوں قرض اور اس پر سود بڑھتا چلا جاتا ہے ۔

گردشی قرضوں کی سب سے بڑی وجہ وہ حکومتی ادارے ہیں جو بروقت بجلی کے بل ادا نہیں کرتے۔ ستمبر 2024ء میں پاور ڈویژن کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتی ادارے بجلی واجبات کے 2560 ارب سے زائد کے نادہندہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائے۔ بلنگ اور ریکوری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیے بغیر گردشی قرض نہ صرف قومی خزانے کو کھوکھلا کرتا رہے گا بلکہ ملکی معیشت کی بحالی کی ہر کوشش کو بھی کمزور کر دے گا۔