نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی ضرورت
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے نوجوانوں کی فنی تربیت‘ مہارتوں میں اضافے اور انہیں عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کو قومی اقتصادی ایجنڈے کا مرکزی نکتہ قرار دیا ہے۔ اگر حکومت اس کہے کو کر دکھائے تو یہ بڑاخوش آئند ہو گا کیونکہ نوجوان ملکی آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں اور معاشی مشکلات‘ بڑھتی ہوئی بیروزگاری‘ غربت اور سماجی مسائل کے تناظر میں نوجوانوں کی فنی و پیشہ ورانہ تربیت قومی ضرورت ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں مگر بڑی تعداد کے پاس ایسی مہارتیں نہیں ہوتیں جنکی جدید معیشت اور صنعت کو ضرورت ہے۔

آج دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان اگر ڈیجیٹل شعبوں میں مہارت حاصل کر لیں تو وہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ تعلیمی نظام‘ صنعت اور روزگار کی منڈی کے درمیان مضبوط ربط پیدا کیا جائے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کو جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو معاشی ترقی کا محور قرار دینا درست قدم لیکن اصل امتحان پالیسیوں کا عملی نفاذ ہے۔ اگر ایسا کرنے میں کامیابی حاصل ہو گئی تو ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں نوجوان بلاشبہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔