پارلیمانی اجلاس سے غیر حاضری
فافن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے 27ویں اجلاس میں صرف 20فیصد ارکان تمام نو نشستوں میں شریک ہوئے۔ 33ارکان ایک بھی نشست میں حاضر نہیں ہوئے جبکہ 267ارکان‘ یعنی ایوان کے 80فیصد سے زائد‘ کم از کم ایک نشست سے غیر حاضر رہے جبکہ کابینہ میں سے صرف ایک وفاقی وزیر اور ایک وزیرِ مملکت تمام نشستوں میں شریک ہوئے۔ قومی اسمبلی وہ فورم ہے جہاں قانون سازی‘ قومی پالیسیوں پر بحث‘ عوامی مسائل کی نشاندہی اور حکومتی کارکردگی کا احتساب ہونا چاہیے۔ اگر منتخب نمائندے ایوان میں موجود ہی نہ ہوں تو ان مقاصد کا حصول کیسے ممکن ہوگا؟ عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کو اسلئے منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کی آواز بنیں‘ مسائل اجاگر کریں‘ قانون سازی کے عمل میں حصہ لیں اور قومی وسائل کے استعمال پر نظر رکھیں۔

جب نمائندے ایوان کی کارروائی سے ہی لاتعلق رہیں تو عوامی نمائندگی کا بنیادی تصور مجروح ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری پارلیمنٹ میں پالیسی سازی پر سنجیدہ اور جامع بحث محدود ہو چکی‘ اکثر اہم قوانین اور پالیسی فیصلے غور و خوض‘ پارلیمانی جانچ اور تفصیلی مباحثے کے بغیر منظور ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں نہ صرف قانون سازی کا معیار متاثر ہوتا بلکہ حکومت کی جوابدہی کا نظام بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ کو واقعتاً قومی پالیسی سازی‘ عوامی نمائندگی‘ قانون سازی اور انتظامیہ کے احتساب کا مؤثر پلیٹ فارم بنانا ہے تو منتخب اراکین کو پارلیمانی اجلاسوں میں اپنی شرکت یقینی بنانا چاہیے۔