تیل کی عالمی قیمتیں اور عوامی ریلیف
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور باضابطہ مذاکرات کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میںخام تیل کی قیمتیں تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ روز عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 72.6 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ 28فروری کو یہ 72.4 ڈالر فی بیرل تھی۔خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ عوام کو ملنا چاہیے۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ہے لیکن یہ کمی عالمی منڈی میں آنے والی مجموعی گراوٹ کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ 28فروری کو ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 258 اور 275 روپے فی لٹر تھیں جبکہ اس وقت یہ قیمتیں 299اور 311روپے فی لٹر ہیں۔ یعنی پاکستانی صارفین جنگ کے خاتمے کے بعد بھی زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم لیوی‘ ٹیکسوں اور دیگر مالیاتی تقاضوں کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرتے ہوئے عالمی منڈی میں کمی کا حقیقی فائدہ عوام تک منتقل کرے۔ عوام اس وقت شدید مہنگائی‘ کمزور قوتِ خرید اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں عالمی منڈی سے پیدا ہونے والا یہ مثبت موقع صرف حکومتی محصولات بڑھانے کیلئے نہیں بلکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔