نصابِ کربلا

واقعۂ کربلا بلاشبہ انسانی تاریخ میں عزم و استقلال اور صبر و استقامت کی سب سے زیادہ روشن اور درخشندہ مثال ہے‘ جس کا سب سے بڑا درس اخلاقی جرأت‘ حق گوئی اور اصول پرستی ہے۔ یہ محض ایک جنگ کا نام نہیں بلکہ قیامت تک کیلئے انسانی کردار کی عظمت کا نصاب مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس نصاب میں کئی اہم موضوعات کو عملی طور پر ثابت کیا گیا ہے۔ اس کا پہلا سبق یہ ہے کہ حق پر ڈٹ جائیں چاہے اس راستے پر تنہا رہ جائیں۔ حضرت امام حسینؓ کے پاس صرف 72ساتھی تھے اور مقابلے میں یزید کا لشکرِ جرار۔ اس طرح تعداد کا فرق واضح تھا مگر اکثریت حق کی دلیل نہیں ہوتی۔ اگر بات اللہ اور رسول کریمﷺ کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کے خلاف ہو تو اکثریت والی دلیل باطل ہے۔ آج کے دور میں رشوت کا کلچر ہو‘ یونیورسٹی میں نقل چل رہی ہو‘ سوشل میڈیا پر جھوٹ وائرل ہو تو بھیڑ چال کے بجائے واقعۂ کربلا باطل کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنا سیکھاتا ہے۔ اس نصاب کا دوسرا نمایاں سبق یہ ہے کہ مصلحت کی آڑ میں اصولوں پر سمجھوتہ مت کریں۔ یزید نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو پیشکش کی کہ اگر وہ بیعت کر لیں تو عہدے‘ دولت سب ان کی ہو جائے گی مگر امام حسینؓ نے فرمایا کہ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ باطل سے سمجھوتہ دراصل کربلا کا انکار ہے۔ نوکری‘ کاروبار‘ شہرت کیلئے جھوٹ‘ دھوکہ‘ ظلم کو مجبوری کہنا شمر کا راستہ ہے۔ حسینؓ کا راستہ فقر تو قبول کر سکتا ہے مگر ذلت قبول نہیں۔ نصابِ کربلا کا تیسرا نمایاں موضوع خاتون کی عزت اور صبر کی انتہا ہے۔ کربلا میں تلوار مردوں نے اٹھائی لیکن صبر کا جھنڈا زینب بنت علیؓ نے تھامے رکھا۔ آپ نے 72لاشیں دیکھ کر فرمایا: ما رایت الا جمیلا (میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا)۔ یہ بے مثل عزم و ہمت ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مصیبت میں حوصلہ نہ ہاریں‘ زبان سے شکوہ نہ کریں‘ دشمن کے دربار میں بھی حق کی آواز بلند رکھیں اور یہی اہلِ بیت کا طرۂ امتیاز ہے اور قابلِ فخر شیوہ بھی۔ آج کی مائیں‘ بہنیں جب گھر کے مسائل اور معاشی تنگی سہتی ہیں تو حضرت زینبؓ کی سیرت مینارۂ نور بن کر روشنی فراہم کرتی ہے۔ دوسری طرف علی اصغرؓ چھ ماہ کے تھے اور پانی کی ایک بوند کیلئے شہید کر دیے گئے۔ ظلم کی یہ داستان ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ظالم بچوں کو بھی نہیں بخشتا جبکہ مومن بچوں کو کمزور سمجھ کر قربانی سے نہیں روکتا۔ آج ہم اپنے بچوں کو سچ‘ ایمان‘ غیرتِ ایمانی کی تربیت دیں۔
اس منفرد نصاب کا چوتھا بڑا سبق یہ کہ ظلم پر خاموش تماشائی بھی مجرم قرار پاتے ہیں۔ کوفہ کے 40ہزار لوگوں نے خط لکھے کہ حسینؓ آپ آئیں مگر جب وقت آیا تو ان میں سے اکثر یزید کی فوج کے ساتھ کھڑے تھے۔ ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا یا غیرجانبدار رہنا دراصل یزیدی لشکر کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ آفس میں کوئی زیادتی ہو‘ محلے میں کوئی کمزور پٹ رہا ہو یا سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیل رہا ہو‘ چپ رہنا کربلا کا سبق ہے اور نہ حسینیت کا دم بھرنے والوں کی پہچان۔ فرات پر پہرہ لگا دیا گیا‘ چھ ماہ کے بچے کو پانی کی ایک بوند تک نہ مل سکی۔ بنیادی انسانی اشیائے خور و نوش مثلاً روٹی‘ پانی‘ دوا‘ تعلیم کو ہتھیار بنانا سب سے بڑا ظلم ہے۔ آج بھی محصور علاقوں میں دوا‘ غریب کا راشن‘ غریب کے بچے کا داخلہ بند کرنا یزیدی سوچ کا مظہر ہے جبکہ کربلا ہمیں 'انسان سب سے پہلے‘ کا درس دیتا ہے۔ نصابِ کربلا کا آخری اور سب سے معتبر باب یہ ہے کہ شہادت موت نہیں زندگی ہے۔ حضرت امام حسینؓ شہید ہوئے لیکن آج تک‘ 1400سال بعد بھی سلام یا حسینؓ کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ ثابت ہوا کہ اصول پر مر جانا باطل کے ساتھ جینے سے ہزار گنا بہتر ہے۔ دنیا وقتی ہے‘ نام ہمیشہ کیلئے وہی رہتا ہے جو حق کے ساتھ کھڑا ہو۔ کاروبار ڈوب جائے مگر ایمان نہ بکے۔ عہدہ چلا جائے مگر ضمیر نہ بکے۔
ایران نے اسی نصاب پر عمل پیرا ہو کر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی ہے اور اخلاقی برتری اپنے نام کی ہے۔ اگرچہ روحانی اعتبار سے کربلا کی فقید المثال قربانی اور مزاحمت کا موازنہ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی سے نہیں کیا جا سکتا مگر یہ موازنہ چند ایک جنگی اصولوں کے تناظر میں کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے دونوں کے درمیان عددی برتری اور غیرمساویانہ وسائل کی قدر مشترک ہے۔ کربلا میں امام حسینؓ کے 72ساتھیوں کے مقابلے میں یزید کی فوج 30ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھی۔ ایران پر امریکی معاشی پابندیاں تھیں جبکہ ٹیکنالوجی اور عسکری بجٹ میں امریکہ کئی گنا بڑا ملک ہے۔ ایران خود کو محصور لیکن مزاحم کہتا ہے۔ دونوں صورتوں میں مقصد کو بیانیہ کی طاقت بنایا گیا ہے۔ کربلا میں حق پرستی اور آج کی کشیدگی میں قومی غیرت اور خود مختاری کیلئے مزاحمت کا بیانیہ ہے۔ کربلا میں فرات پر پہرہ لگایا گیا اور پانی بند کر دیا گیا جس کے نتیجے میں چھ ماہ کے علی اصغرؓ کو پانی نہیں ملا جبکہ حالیہ کشیدگی میں امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی‘ ایران کے تیل پر پابندی‘ بینکنگ سسٹم سے نکالنا‘ دوا اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنا اسی زمرے میں آتا ہے۔ تیسری بڑی قدرِ مشترک بیعت اور جھکنے کے مطالبہ پر مزاحمت کا اعلان ہے۔ کربلا میں یزید نے حضرت امام حسینؓ سے کہا‘ بیعت کر لو سب کچھ مل جائے گا جس پر حسینؓ نے انکار کیا۔ اسی طرح امریکہ کا ایران سے یہ مطالبہ کہ جوہری پروگرام ختم کرو‘ علاقائی اثر کم کرو جبکہ ایران کا مؤقف یہ رہا ہے کہ خودمختاری پر سودا نہیں۔ بیانیہ اور پروپیگنڈا چوتھا بڑا مشترکہ غور طلب نکتہ ہے۔ کربلا کے بعد یزیدی دربار میں قیدیوں کو باغی کہا گیا۔ بی بی زینبؓ نے کوفہ و شام کے دربار میں خطبے دے کر اصل روایت محفوظ کی جس میں قلم تلوار پر بھاری پڑا۔ ایران امریکہ کشیدگی میں دونوں اطراف سے سوشل میڈیا اور سرکاری میڈیا پر بیانیہ کی جنگ لڑی گئی‘ ایک طرف دہشت گردی کا راگ الاپا گیا جبکہ دوسری طرف استعمار کے خلاف مزاحمت کا استعارہ استعمال کیا گیا۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جنگ میدان میں کم جبکہ ذہنوں میں زیادہ لڑی جاتی ہے۔ اللہ ہمیں نصاب ِکربلا کا کامل فہم عطا فرمائے کیونکہ صرف نوحہ کناں ہونا یا ماتم کرنا حسینیت نہیں بلکہ ظلم کے خلاف مزاحمت اور حرفِ انکار ہی نصابِ کربلا کی حقیقت کو آشکار کرتاہے۔کربلا کا پیغام آج کے پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے۔ میدانِ سیاست میں ووٹ‘ کرسیِ اقتدار اور اختیار کے حصول کیلئے اصول پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔ معاشرے میں برادری‘ ذات‘ شریکا کے نام پر کمزور کا حق نہ کھائیں اور نہ ہی ذاتی فائدے کیلئے جھوٹ بولا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھر میں بچوں کو کامیاب بنانے کے ساتھ ساتھ درسِ حسینؓکی تربیت بھی لازم ہے۔ نمبروں کی دوڑ میں شامل ہونا اچھا ہے لیکن ظلم کے سامنے حرفِ انکار اس سے کہیں بہتر ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ‘ بہتان‘ گالم گلوچ کو ری ٹو یٹ کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شمر کے پیروکار نہ بنیں بلکہ زینبؓ کا علم بلند کریں۔
کربلا نے دنیا کو دو راستے دکھائے‘ ایک راستہ حسینؓ کا ہے جس میں تھوڑے لوگ‘ بھوک‘ پیاس‘ اور شہادت ہے لیکن بے پناہ عزت‘ تاریخ ِانسانی میں قابلِ فخر مقام‘ اور اگلے جہاں میں جنت یقینی ہے۔ دوسرا راستہ یزید کا ہے جس میں فوج‘ تخت‘ اقتدار تو ہے لیکن ذلت اور جہنم مقدر میں لکھا گیا ہے۔ نصاب ِکربلا ہر سال ہمیں یہ پوچھتا ہے کہ تم کس صف میں ہو؟ ظالم کے لشکر میں‘ خاموش تماشائیوں میں‘ یا حسینؓ کے ساتھیوں میں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں