لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن
ملک میں جائیداد سے متعلق تنازعات برسوں سے عدالتی نظام اور عوام دونوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ وراثتی تقسیم‘ ملکیت کے دعوؤں‘ جعلی دستاویزات اور دہری فروخت جیسے معاملات نہ صرف شہریوں کو مالی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں بلکہ عدالتوں پر بھی مقدمات کا غیرمعمولی بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے فرد اور انتقال کے روایتی نظام کی جگہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ رائج کرنے کا فیصلہ اصولی طور پر خوش آئند ہے کہ اس سے جائیداد کا ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹائز ہونے کے بعد مالک کو ملکیت کا سرکاری سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ تاہم کسی بھی اصلاحی منصوبے کی کامیابی صرف اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ سے مشروط ہوتی ہے۔

یہی وہ پہلو ہے جس پر اس وقت سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔ خبروں کے مطابق صوبے میں ابھی تک تمام جائیدادوں کا ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹائز نہیں ہوا جبکہ یکم جولائی سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینے اور فرد کے سابقہ نظام کی بندش کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اصلاحات سے متعلق جلدبازی بعض مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ضروری ہے کہ جلد بازی میں پرانے نظام کو یکسر ختم کرنے کے بجائے نظام کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے۔ اس سے عوام کی مشکلات بھی نہیں بڑھیں گی اور سرکاری نظام پر جلد بازی میں نظام کی تبدیلی کا بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ ریونیو کے جدید نظام کی افادیت میں دو رائے نہیں‘ مسئلہ اس کی جانب سست روی کا ہے۔