اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

صنعتوں کا فروغ اور مسائل

وزیراعظم شہباز شریف سے گزشتہ روز صنعتکاروں کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی جس میں صنعتی معیشت کے فروغ کے عزم  کا اظہار کیا گیا تاکہ پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو سکیں۔ بجٹ سے قبل مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں سے مشاورت ضروری عمل ہے۔ اس سے حکومت کو معیشت کے مختلف سٹیک ہولڈرز کی آرا کو جاننے کا موقع ملتا ہے جس سے آنے والے مالی سال کیلئے بہتر پالیسیاں تشکیل دی جاسکتی ہیں۔ حکومت یقینا معیشت و صنعت   کو درپیش بحرانوں سے ناواقف نہیں۔ سرفہرست چیلنجز توانائی کی بلند ترین قیمتیں‘ غیر متوازن اور بھاری ٹیکس اور معاشی پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ان مسائل سے نمٹ کر جب تک معیشت کو سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جاتا صنعتی ترقی اور پائیدار نمویقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ ملکی معیشت کے ڈھانچے اور گزشتہ چند برسوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو یہ منظر تضاد سے بھرپورہے۔

مالی سال 2022ء میں پاکستان میں محصولات کا حجم 6125 ارب روپے تھا جبکہ رواں مالی سال کیلئے 13979 ارب روپے کے مقررہ ہدف میں سے 30مئی تک 11227 ارب روپے سے زائد حاصل کیے جا چکے ہیں۔ یعنی گزشتہ چار برس کے دوران حکومت کے ٹیکس ریونیو میں سو فیصد سے زائد اضافہ بظاہر ایک مثبت پیشرفت کو واضح کرتا ہے لیکن دوسری طرف ملکی برآمدات کا حجم 30ارب ڈالر کے گرد جمود کا شکار نظر آتا ہے۔اصولی طور پر اگر ملک کا ٹیکس نیٹ اور ریونیو بڑھ رہا ہے تو اس کا اثر پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں اضافے کی صورت میں بھی سامنے آناچاہیے لیکن ملکِ عزیز میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ مالی سال 2022ء میں ملکی برآمدات کا حجم 31.8ارب ڈالر تھا اور گزشتہ مالی سال برآمدات 30.9ارب ڈالر تک رہیں۔یعنی وقت کیساتھ برآمدات میں بجائے اضافے کے کمی ہوئی ہے۔ مالی سال 2021ء اور 2022ء میں بڑے پیمانے کی صنعتوں نے بالترتیب 10.5 فیصد اور 10.8 فیصد ترقی کی مگر اسکے بعد ترقیٔ معکوس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مالی سال 2023ء میں صنعتی ترقی کی شرح منفی 5.26 فیصد رہی‘ 2024ء میں 2.2 فیصداور 2025ء میں 1.9 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی۔ حیران کن طور پر پیداوار میں گراوٹ کے ساتھ حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا گیا کیونکہ دستاویزی معیشت کو فروغ دینے یا پیداوار بڑھانے کے بجائے حکومت ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاکر محصولات کے حجم میں اضافہ کرتی رہی۔ یوں بڑھتی ہوئی ٹیکسوں کی شرح سے ملکی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں اپنی مسابقت کھوتی چلی گئیں اور صنعتی زوال بڑھتا گیا۔ ان حکومتی پالیسیوں کا منفی اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی پڑا۔ کاروباری اعتماد کی شرح‘ جو پہلے 22 فیصد تھی‘ اب مزید گر کر 13 فیصد پر آ چکی ہے۔اس مایوس کن صورتحال کی بنیادی وجوہات میں سب سے نمایاں توانائی کے بلند ترین اخراجات ہیں۔ پاکستان میں اس وقت بجلی اور گیس کے نرخ خطے میں سب سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ مقامی صنعتوں کیلئے عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔

حکومت کو آنے والے بجٹ میں ان سبھی امور پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے ایسے معاشی فیصلے کرنے چاہئیں جو ملکی معیشت کی ترقی میں حقیقی کردار ادا کر سکیں۔ حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی کی نمو کا حجم‘ جو رواں سال 3.7فیصد کے لگ بھگ متوقع ہے‘ چار فیصد مقرر کرنے کا عندیہ دیا جا رہا‘ مگر اس کا حصول اسی صورت ممکن ہے جب صنعتی پہیہ رواں دواں ہو گا اور مقامی کاروبار کو پھلنے پھولنے کے مواقع میسر آئیں۔ پاکستان کی معاشی بقا کا دارومدار بے لچک اصلاحات پر ہے اور ان اصلاحات کا راستہ صنعتوں کو تحفظ دینے اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے سے ہو کر گزرتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں