اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بارشیں اور پیشگی اقدامات

محکمہ موسمیات نے 16سے 20جون تک اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ لاہور‘ سیالکوٹ‘ پشاور‘ سوات‘ چترال ‘ کراچی اور کوئٹہ میں شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ملک میں مون سون سیزن کی آمد آمد ہے مگر متعلقہ ادارے ابھی تک اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار دکھائی نہیں دیتے۔ اس تشویش کی ایک واضح مثال خیبرپختونخوا میں گزشتہ دنوں ہونے والی بارشیں ہیں جہاں ایک ہی روز میں بارشوں سے مختلف حادثات میں سات افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس سے اداروں کی تیاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور سوچا جاسکتا ہے کہ اگر مون سون میں بارشیں معمول سے زیادہ ہوئیں تو جانی اور مالی نقصان کتنا بڑھ سکتا ہے۔

جاری ترقیاتی منصوبوں کے باعث شہروں میں جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹی پڑی ہیں‘ سیوریج کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور متعدد شہروں میں برساتی نالوں کی بروقت صفائی بھی نظر نہیں آتی؛چنانچہ گھنٹوں کی بارش بھی اربن فلڈنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں اور ضلعی انتظامیہ مون سون سے قبل ہنگامی بنیادوں پر نکاسیِ آب کے نظام کی بہتری‘ برساتی نالوں اور سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی اور آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا لیکن بروقت منصوبہ بندی اور مؤثر انتظامات کے ذریعے ان کے نقصانات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے متعلقہ اداروں کو بروقت پیشگی اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں