امن کی جیت
وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ ایران امن معاہدے کو بجا طور پر امن کا سورج طلوع ہونے سے تعبیر کیا ہے۔ بلاشبہ یہ پیش رفت معاصر دنیا کیلئے ایک تاریخی واقعہ ہے اور عالمی امن کیلئے بے نظیر کارنامہ‘ جس کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر معیشت‘ سماج اور اقوام کے باہمی تعلقات کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ امن معاہدے کی تقریب اسی جمعۃ المبارک کو پاکستان کی میزبانی میں جنیوا میں متوقع ہے۔ امنِ عالم کی اس اہم پیشرفت پر وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا نے امن کا تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے‘ جنگ کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا ہے‘ تین ماہ 16 دن کی بے پناہ آزمائشوں کے بعد امریکہ اور ایران نے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سفارتی فتح کیلئے پاکستان کا بنیادی کردار تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ انتہائی درجے کی کشیدگی کے دوران پاکستان نے جس حکمت سے جنگ بندی کروانے میں کامیابی حاصل کی‘ فریقین کو اسلام آباد میں بالمشافہ مذاکرات تک لے کر آئے اور جس خلوص اور لگن کے ساتھ امن کیلئے کام کیا وہ پاکستان کی عالمی امن کیلئے بہت بڑی خدمت ہے جس نے پاکستان کی اہمیت اور عالمی کردار کو چار چاند لگائے ہیں۔

19جون کو جنیوا میں امن معاہدے پر امریکہ اور ایران کے دستخطوں سے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہونے کی امید ہے۔ تجارتی رکاوٹیں ہٹ جائیں گی‘ محاصرے اُٹھ جائیں گے‘ حملوں کے خطرات ٹل جائیں گے اور خلیج فارس کے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ نئی شروعات کا موقع میسر آئے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ اس کشیدگی کے تلخ تجربے سے خلیجی خطے کے سبھی فریق بہت کچھ سیکھیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں اس خطے کو ایسے بھیانک تجربات سے دوبارہ نہ گزرنا پڑے۔ اس کیلئے ضروری یہ ہے کہ خطے کے ممالک سفارتی حکمت کے ساتھ آگے بڑھیں اور جنگ کی تلخ یادوں کو ماضی میں دفن کر دیں۔ اس کشیدگی نے خطے کے سبھی ممالک کو متاثر کیا ہے ۔ کسی کو کم‘ کسی کو زیادہ مگر خلیجی خطے کی سبھی دولت مند اور ترقی یافتہ ریاستوں کیلئے یہ صورتحال ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی۔ اب اس آگ کو بجھانے کا وقت آیا ہے تو خطے کے سبھی ممالک کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور باہمی رنجشوں کو مٹانے اور اعتماد کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ خلیج کا وسائل سے مالا مال خطہ جنگ کی اس ناگہانی آفت کے اثرات سے نکل کر نئے جذبے اور زور وشور کے ساتھ ترقی کر سکے اور دنیا کو توانائی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ یہی اس خطے کے مفاد میں ہے اور دنیا کے مفاد میں بھی۔
پائیدار امن کیلئے معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد ناگزیر ہو گا۔ فریقین کو شرح صدر کے ساتھ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ حالات جس نہج سے واپس آئے ہیں اس میں اعتماد کی بحالی وقت لے گی تاہم معاہدے کی طے شدہ شرائط پر فریقین کا عملدرآمد یہ ثابت کرے گا کہ وہ امن کیلئے کتنے مخلص اور سنجیدہ ہیں۔ امن معاہدے کے ہر دو فریقوں کو معاہدے کی پابندیوں کا پاس کرنا ہو گا۔ آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکہ کی جانب سے ایران کا محاصرہ اٹھا لینے کے علاوہ لبنان میں قیام امن اور اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ بھی اس امن عمل کی کامیابی کا تقاضا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ امریکہ اور ایران تو اپنی حد تک معاہدے کی شرائط کی تعمیل کریں مگر اسرائیلی حملے امن کی اس کاوش کے لیے بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں۔
کسی کو بھی یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ جارحیت مسلط کرے اور ملکوں کی خودمختاری کو ملیامیٹ کرتا پھرے۔ امریکہ ایران امن معاہدے سے جنگ کا خاتمہ تو ہو گیا ہے‘ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہو رہی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آ چکی ہے‘ تاہم مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اسرائیلی طرزِ عمل سے مشروط ہے۔