جننگ سیکٹر کی مشکلات
ملکی معیشت میں کپاس اور ٹیکسٹائل کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے مگر اس وقت یہ پورا شعبہ ایسے بحران کی لپیٹ میں ہے جس کے اثرات صرف کسان یا صنعتکار تک محدود نہیں بلکہ اس سے برآمدات‘ روزگار اور زرِمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کاٹن جننگ سیکٹر پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس اور شدید موسمی حالات کے باعث رواں سیزن کپاس کا معیار گرنے سے روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی آئی ہے‘ جس کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کے بڑے کاٹن زونز میں جننگ فیکٹریاں سیزن شروع ہونے کے صرف ایک ماہ بعد ہی بند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ جننگ فیکٹریاں کپاس سے ٹیکسٹائل صنعت تک پوری سپلائی چین کی بنیادی کڑی ہیں۔

ان کے غیر فعال ہونے سے نہ صرف کسانوں کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں ملے گی بلکہ ٹیکسٹائل ملوں کو معیاری خام مال کی فراہمی بھی متاثر ہوگی‘ جس سے پیداواری لاگت‘ برآمدی صلاحیت اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت مزید کمزور پڑ سکتی ہے۔ ٹیکسٹائل شعبہ‘ جو سالانہ اربوں ڈالر کا زرِمبادلہ کما کر ملکی معیشت کو سہارا دیتا ہے‘ مہنگی توانائی‘ بلند لاگت‘ بھاری ٹیکسوں اور غیر یقینی پالیسیوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر کاٹن جننگ سیکٹر پر ٹیکسوں کا ازسرنو جائزہ‘ توانائی کے نرخوں میں مسابقتی سطح پر کمی اور کاروباری ماحول میں استحکام ناگزیر ہے۔