اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجلی کادائمی مسئلہ

گرمی کی شدت کے ساتھ بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ ان دنوں عوام کے لیے شدید اذیت کا سبب بن رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کی شکایات ملک بھر سے آ رہی ہیں۔ کہیں کم کہیں زیادہ۔ کہیں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کہیں ٹرانسفارمر کی خرابی یا دیگر نقائص کی وجہ سے کئی کئی دن سے بجلی بند رہنے کی شکایات ہیں۔ ملک میں پچھلے چند برسوں کے دوران بجلی کی انسٹالڈ کپیسٹی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اتنا زیادہ کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت ہماری قومی ضرورت سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے اور اس اضافی غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت کی مد میں اضافی ادائیگیوں کا مسئلہ بجلی کی مزید مہنگائی کا سبب ہے۔ دوسری جانب حالیہ برسوں میں مہنگی بجلی سے بچاؤ کی خاطر صنعتی اور گھریلو صارفین میں سولر انرجی کے رجحان میں نمایاںاضافہ ہوا۔ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار ایکوئٹیبل ڈویلپمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سولر جنریشن کپیسٹی ملک کی مجموعی طلب سے تجاوز کر چکی ہے۔ ملک میں 50 گیگا واٹ کی مجموعی کپیسٹی کے سولر پینلز درآمد کیے گئے ہیں جبکہ موسم گرما کی پیک ڈیمانڈ 33 گیگا واٹ تک ہوتی ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کے 77 فیصد صارفین اب بنیادی طور پر سولر سسٹم پر انحصار کرتے ہیں جبکہ صرف 23فیصد توانائی کی ضروریات کیلئے کلی طور پر نیشنل گرڈ کے مرہونِ منت ہیں۔

ملک میں سولر انرجی کے غیر معمولی رجحان کی بنیادی وجہ بجلی کی مہنگائی اور عدم دستیابی ہے کیونکہ گزشتہ لگ بھگ تین برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں 150فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں سولر انرجی کے انقلاب اور صارفین کی بجلی کے معاملے میں خود انحصاری کو ملک میں بجلی کے شعبے کیلئے بڑی سہولت ثابت ہونا چاہیے تھا اور قومی گرڈ پر موجود بوجھ میں 70 فیصد سے زائد کمی کے نتیجے میں بجلی کی سپلائی کے معاملات میں بہتری آنی چاہیے تھی جبکہ بجلی کی اضافی پیداوار کو کھپانے کیلئے بجلی کا شعبہ تگ ودو کرتا نظر آنا چاہیے تھا مگر یہاں اس کے برعکس صورتحال نظر آتی ہے۔ موسم گرما کے پیک آورز میں بجلی کی بندش کے جو مسائل ماضی میں تھے آج بھی اسی طرح ہیں۔ بڑے شہروں میں جہاں سولر انرجی کی وجہ سے دن کے اوقات میں نیشنل گرڈ کی سپلائی پر لوڈ میں نمایاں کمی آتی ہے یہاں دن کے اوقات میں نسبتاً کم مگر راتوں کو شہری علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی بندش کی شکایات ہیں۔ جہاں تک دیہی علاقوں کی بات ہے تو کیا دن اور کیا رات‘ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ معمول ہے اور صارفین کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ صورتحال ان لوگوں کیلئے بھی سولر انرجی میں پناہ ڈھونڈنے کی ترغیب بلکہ مجبوری ثابت ہو رہی ہے جو اَب تک کسی وجہ سے صرف قومی گرڈ پر انحصارکیے ہوئے تھے۔

پچھلے کچھ برسوں میں ملک میں نئے بجلی گھر لگانے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے پر زور رہا‘ یہ سوچے بغیر کہ اس توانائی کو صارفین تک پہنچانا کیسے ہے اور اس کی کھپت کیسے ہو گی۔ ملک میں ہر نوع کے جدید پاور ہاؤسز لگ گئے مگر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا نیٹ ورک وہی دہائیوں پرانا ہے۔ نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور صارفین تک بجلی کی ترسیل کا مضبوط نظام قائم کرنے پر ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر کام ہوا نتیجتاً ہلکی آندھی‘ معمولی بارش اور معمول سے قدرے زیادہ لوڈ ہمارے ہاں پہروں بجلی کی بندش کا سبب بن سکتا ہے۔ گرمی کے موسم میں ٹرانسفارمر خراب ہو جانا معمول ہے اور گلی گلی ٹرالی میں نصب متبادل ٹرانسفارمر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ دور دراز علاقو ں اور دیہات میں یہ سہولت بھی میسر نہیں‘ اس لیے وہاں ٹرانسفارمر کی خرابی ہفتوں بجلی کی بندش کا سبب بن سکتی ہے۔ فی زمانہ ہم جن مسائل سے جھُوجھ رہے ہیں‘ جدید تو کیا ہمارے جیسے ترقی پذیر معاشرے برسوں پہلے ان سے نکل چکے ہیں۔ بجلی کی آوت جاوت اور بے پناہ مہنگی بجلی وہاں کا مسئلہ نہیں مگر یہاں کا ہے اور پوری شدت سے ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں