اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے واقعات

ایک سکیورٹی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2026ء کی پہلی ششماہی میں ملک بھر میں دہشتگردی کے 447 واقعات میں 685افراد شہید اور 808 زخمی ہوئے‘ جبکہ شہدا میں 249 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس دوران مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 902 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشتگردانہ کارروائیوں کا مرکز رہے۔ خیبرپختونخوا میں بنوں‘ لکی مروت‘ باجوڑ‘ شمالی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع رہے جبکہ بلوچستان میں کوئٹہ‘ چاغی‘ واشک‘ کیچ اور گوادر دہشت گردوں کے اہم اہداف بنے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پورے صوبے کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کے بجائے ضلع وار سکیورٹی حکمتِ عملی ترتیب دی جائے۔ جہاں خطرہ زیادہ ہے وہاں وسائل‘ نفری‘ انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی اسی تناسب سے ہونی چاہیے۔

اسی طرح صرف چھ ماہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ڈھائی سو سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں فوری اور نمایاں اضافہ کیا جائے۔ اگرچہ وفاق اور تمام صوبوں نے رواں مالی سال کے بجٹ میں امن و امان کے قیام کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے ہیں لیکن اصل امتحان ان رقوم کے شفاف‘ بروقت اور نتیجہ خیز استعمال کا ہے۔ بدلتے ہوئے خطرات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ قومی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کو بھی نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں