اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آلودہ سرنج سکینڈل

کراچی کے آلودہ سرنج سکینڈل میں تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کے 37 افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی ہے جن کی سنگین غفلت کے باعث78 بچے ایچ آئی وی کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انفیکشن سے بچائو اور کنٹرول کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قبل ازیں ضلع تونسہ میں ایسا ہی ایک سیکنڈل سامنے آیا تھا جس میں 300 سے زائد بچے ایچ آئی وی جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے تھے۔ یہ واقعات انفرادی لاپروائی نہیں بلکہ طبی نظام کے کھوکھلے پن کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک ہی سرنج کا متعدد بار استعمال کوئی نادانی نہیں بلکہ اپنے پیشے سے غداری اور انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔

ان حالات میں محض قابلِ استعمال سرنجوں پر پابندی لگانے اور نئے قوانین بنانا ہی کافی نہیں ہو گا بلکہ اس رویے کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا جو انسانی جانوں کو بے وقعت سمجھتا ہے۔ اگر اب بھی طبی عملے کی کڑی نگرانی‘ پیشہ ورانہ تربیت اور غفلت کے مرتکب عناصر کو سخت سزائیں دینے کا فول پروف نظام وضع نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان واقعات کو ایک ٹیسٹ کیس سمجھا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں