مزدوروں کا بہیمانہ قتل
بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں پانچ مزدوروں کا بہیمانہ قتل ان دلخراش اور بزدلانہ کارروائیوں کا تسلسل ہے جس کا نشانہ طویل عرصے سے غریب اور غیر مقامی افراد بنتے آ رہے ہیں۔ روزگار کی تلاش میں اپنے گھر بار سے دور محنت مزدوری کرنے والے بے گناہوں کا خون بہانا کسی بھی معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ مذکورہ واقعے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کا یہ کہنا مبنی بر حقیقت ہے کہ یہ کسی مخصوص زبان یا صوبائیت پر نہیں بلکہ براہِ راست پاکستانیت پر حملہ ہے۔ دہشت گردوں کا مقصد قومی یکجہتی کو نشانہ بنانا اور بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے منفی تاثر اجاگر کرنا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز کے جاری آپریشنز اور پے درپے ناکامیوں کے بعد یہ بزدل عناصر جب ریاست کے مضبوط دفاعی حصار کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو بیٹھتے ہیں تو اپنی بقا اور سنسنی پھیلانے کیلئے نہتے اور بے بس افراد کو نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بزدلی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگرد اب آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ آپریشن شعبان کو مزید مؤثر‘ منظم اور وسیع انداز میں پھیلایا جائے۔ دشوار گزار اور دور دراز سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی رفتار تیز کی جائے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک‘ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والے عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ صوبے میں امن و امان کی بحالی ہی ان شہدا کے لہو کا اصل مداوا ہو سکتا ہے۔