اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کشیدگی اور بے یقینی

امریکہ اور ایران میں کشیدگی کے تازہ واقعات کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کشیدگی جو چند روز پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہاز پر ایران کے مبینہ حملے کے بعد ایرانی بندرگاہوں سمیت متعدد مقامات پر امریکی حملوں کے بعد شروع ہوئی اب تک خاصی شدت اختیار کر چکی ہے اور گزشتہ روز دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے کئی اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور آبنائے ہرمز کی بندش یا اس اہم آبی گزرگاہ کے کھلے ہونے کے حوالے سے متضاد خبریں آتی رہیں۔ جون کے آخر میں امریکہ اور ایران میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ طرفین کھلے دل اور خلوص کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہوں گے اور امن معاہدے کی جانب پیشرفت ہو گی۔ مگر فریقین کا عدم اعتماد قدم قدم پر رکاوٹ بنتا دکھائی دیتا ہے اور یہ صورتحال اس امن عمل کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بادی النظر میں فریقین امن عمل میں شامل ہونے کے باوجود ایک دوسرے کیلئے تلخیوں پر قابو نہیں پا سکے اور اس سے بڑی بدقسمتی یہ کہ فریقین میں براہ راست رابطے کا ایسا کوئی ذریعہ نہیں جو ہنگامی حالات میں بروئے کار آ سکے۔

برگن سٹاک‘ سوئٹزرلینڈ میں واشنگٹن اور تہران کے حکام کے درمیان ملاقات میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست فوجی رابطے پر اتفاق ہوا تھا اور آبنائے ہرمز میں فریقین کے مابین مواصلاتی رابطے کا نظام قائم کئے جانے کا بھی سنا تھا مگر حالیہ دنوں کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین میں اعتماد کا بحران بدستور موجود ہے اور براہ راست رابطے کا بظاہر کوئی ذریعہ بروئے کار نہیں۔ ایران اور امریکہ میں جنگ بندی اور امن کی جانب پیشرفت پر دنیا بھر میں خوشی کا اظہار کیا گیا اور عالمی معیشت نے سکھ کا سانس لیاتھا۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آنے لگی اور کچھ ہی روز میں قیمتیں امریکہ ایران جنگ سے پہلے کی سطح تک آ گئیں۔ مگر کشیدگی‘ تصادم اور بے یقینی کے موجودہ ماحول میں قیمتیں ایک بار پھر 76 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں‘ جو گزشتہ ہفتے سے کم از کم پانچ ڈالر فی بیرل زیادہ ہیں۔ ایران اور امریکہ کو چاہیے کہ اس کشیدہ صورتحال پر قابو پانے اور بحران کو سمیٹنے کی کوشش کریں۔ پوری دنیا اور خطہ تو ان ممالک کی طرف دیکھ ہی رہا‘ ان ممالک کے عوام بھی ان کی طرف دیکھ رہے کہ وہ بھی اس بحران کے شدت اختیار کرنے کے متحمل نہیں اور نہ ہی خطے کے ممالک اس پنجہ آزمائی کے منفی اثرات سے محفوظ ہیں۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر فائرنگ کو جواز قرار دے کر امریکہ نے ایران کو نشانہ بنایا اور جوابی کارروائی میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حالات مشرق وسطیٰ کے خطے کیلئے بے پناہ تشویش اور عدم استحکام کی علامت ہیں۔ توانائی کے وسائل سے مالا مال یہ خطہ جو دنیا کے اس حصے میں عالمی معیشت کے محور کی حیثیت بھی رکھتا ہے‘ آخر کب تک اس مڈ بھیڑ کے رحم و کرم پر رہے گا۔ اس صورتحال کا یقینی اور پائیدار حل نکلنا چاہیے اور فی الفور نکلنا چاہیے۔ مفاہمتی یادداشت اس سلسلے میں بہترین نقشہ راہ اور لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ اگر فریقین اس کے نکات کا احترام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک دوسرے پر جھپٹنے کی نوبت آئے۔ بظاہر دونوں جانب سے بے احتیاطی ہوئی ہے اور اسکے بھیانک نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس کشیدگی کو یہیں روکا جائے اور فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں۔ ایران اور امریکہ کو بلاتاخیر مذاکرات کے عمل کو بحال کرنا اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے یہ اقدامات جتنے جلد ہوں اتنا اچھا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں