تعلیم، دعوے اور حقیقت
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے اجلاس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں 26 ہزار سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک انتظامی ناکامی کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں کہ ملک کا سب سے منظم اور وسائل سے مالا مال انتظامی یونٹ بھی ہر بچے تک تعلیم پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسلام آباد محض 36یونین کونسلوں پر مشتمل ایک محدود علاقہ ہے‘ جہاں تعلیم کیلئے الگ وزارت اور وسیع انتظامی ڈھانچہ موجود ہے‘ جبکہ ہر سال اربوں روپے کا بجٹ بھی مختص کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر اتنے محدود علاقے میں بھی سو فیصد بچوں کو سکولوں میں داخلہ یقینی نہیں بنایا جا سکتا تو ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی اہداف کے حصول کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ غربت بھی ہے۔ بے شمار خاندان روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے بجائے کم عمری ہی میں مزدوری پر لگا دیتے ہیں۔ جب تک اس معاشی حقیقت کا ادراک نہیں کیا جائے گا‘ سو فیصد داخلوں کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ سکولوں میں ابتدائی سطح ہی سے فنی تعلیم‘ ہنر مندی اور جدید آئی ٹی مہارتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ طالبعلم ابتدائی عمر میں ہی باعزت روزگار کمانے کے قابل بن سکیں۔