قومی ترقی کی ضرورت
ملکِ عزیز پاکستان کو جس قسم کے سیاسی‘ انتظامی ‘ معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے ایسے میں یہ سوال برمحل ہے کہ آیا ہمارا نظام ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ؟ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ ’سسٹم ناکام ہو گیا ہے‘ ٹھہرے پانی میں کنکر ثابت ہوا ‘اور اسکے بعد کئی سیاسی اور غیر سیاسی رہنماؤں نے اپنے الفاظ میں اس خیال کی توثیق کی۔ گزشتہ روز لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں بھی سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے ان ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے ملک میں نئے صوبے بنانے اور بلدیاتی نظام کو اختیارات دینے کی حمایت کی۔ نئے صوبوں کا قیام اور مقامی حکومت کی مضبوطی ایسا بنیادی تقاضا ہے جس کا احساس ملک کی سیاسی‘ سماجی اور معاشی ضرورتوں سے بخوبی ہوتا ہے۔ ملکِ عزیز کی تقریباً 48 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ جو دنیا میں سکولوں سے باہر بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ گزشتہ برس ایک کروڑ دس لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرتے رہے۔ ملک کی55 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔

پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ بچوں میں قد اور ذہنی نشوونما کی کمی (سٹنٹنگ) ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا ازالہ زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دن گزرنے کے بعد ممکن نہیں رہتا۔ مزید تشویشناک امریہ ہے کہ بچوں میں شدید غذائی کمی کی شرح 17.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔انسانی ترقی کے اشاریے ‘ پائیدار ترقی کے اہداف‘ بھوک کے عالمی اشاریے اور قانون کی حکمرانی جیسے تمام بین الاقوامی پیمانے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو صرف معاشی نہیں بلکہ شدید درجے کے انتظامی اور حکومتی بحران کا بھی سامنا ہے۔ایسے حالات میں صرف افراد یا حکومتوں کی تبدیلی کافی نہیں ہوتی‘ نظام کی اصلاح ناگزیر ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے ملک کا انتظامی ڈھانچہ آبادی‘ وسائل اور جغرافیائی وسعت کے مقابلے میں ناکافی ہے؛چنانچہ عوام تک حکومتی خدمات بروقت اور مؤثر انداز میں پہنچانا ممکن ہی نہیں۔ ان مسائل سے صرفِ نظر کی گنجائش نہیں اور اسکا حل نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور ان یونٹس میں فعال مقامی حکومتی نظام ہے۔
اس طرح اختیارات اور وسائل عوام کے قریب منتقل ہوں گے اور مقامی مسائل کا مقامی سطح پر بہتر حل ممکن ہوسکے گا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مقامی حکومتیں عوامی خدمات‘ ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں کا مقامی حکومتی نظام صرف خانہ پری کرتا ہے۔چین میں مجموعی سرکاری وسائل کاتقریباً 60فیصد مقامی حکومتیں خرچ کرتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ شرح پانچ فیصد بتائی جاتی ہے۔یہی فرق مقامی ترقی‘ بنیادی سہولیات اور عوامی خدمات کے معیار میں بھی نظر آتا ہے۔ جب تک مقامی حکومتیں مالی طور پر خودمختار نہیں ہوں گی وہ عوامی مسائل کا مؤثر حل فراہم نہیں کر سکتیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں مقامی حکومتوں کیلئے آئینی طور پر مستقل حصہ مختص کیا جائے۔ سویلین سپرمیسی‘ قانون کی حکمرانی اور عوامی نمائندوں کے اختیارات مضبوط کیے بغیر کوئی بھی اصلاح دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔
ملک میں ایک ایسا نظام درکار ہے جس میں فیصلے عوام کے قریب ہوں‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور مقامی قیادت اپنے علاقوں کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کر سکے۔پاکستان کے موجودہ معاشی‘ سماجی اور انتظامی اشاریے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ معمولی اصلاحات سے کام نہیں چلے گا۔ ملک کو غربت‘ بے روزگاری‘ تعلیمی پسماندگی‘ غذائی بحران اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے نکالنا ہے تو نئے انتظامی یونٹس‘ آئینی تحفظ کے حامل مضبوط بلدیاتی نظام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا۔