اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

یومِ استحصالِ کشمیر

 بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اور غیر آئینی عمل کو آج سات برس مکمل ہو گئے ہیں۔ پانچ اگست 2019ء کو جب فاشسٹ مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت میں تبدیلی کی تو کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیاجو ہنوز جاری ہے۔ افسوس کہ بھارتی مظالم اور غاصبانہ اقدام پر عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے کشمیری آج ایک سنگین انسانی المیے کا شکار ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پانچ اگست 2019ء سے اب تک تقریباً 1100کشمیریوں کو قابض بھارتی فورسز کی جانب سے شہید کیا جا چکا ہے۔ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے یکساں اطلاق کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبردار ادارے کشمیر کے معاملے کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھیں جس کا مطالبہ دنیا کے دیگر تنازعات میں کیا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور بااثر عالمی طاقتیں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں‘ قابض بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی رکوائیں‘کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور انہیں آزادانہ‘ غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دلانے کیلئے مؤثر اور عملی کردار ادا کریں۔یہی خطے میں پائیدار امن، انصاف اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں