اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم

بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں رواں سال جنوری سے جون تک بچوں کے خلاف جرائم کے 1914مقدمات رپورٹ ہوئے‘ جن میں 80 فیصد واقعات پنجاب میں رونما ہوئے۔ یہ اعداد و شمار حکومت‘ متعلقہ اداروں‘ والدین اور پورے معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 43 فیصد واقعات میں ملزمان متاثرہ بچوں کے واقف کار تھے جبکہ 45 فیصد واقعات بچوں کے اپنے گھروں میں پیش آئے۔ یہ اعداد و شمار اس غلط فہمی کو ختم کرنے کیلئے کافی ہونے چاہئیں کہ خطرہ صرف باہر یا اجنبی افراد سے ہوتا ہے۔

جب بچے اپنے ہی گھروں یا قریبی حلقوں میں غیر محفوظ ہوں تو یہ پورے معاشرے کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ضروری ہے کہ بچوں کیخلاف جرائم کے مقدمات کی خصوصی عدالتوں کے ذریعے فوری سماعت یقینی بنائی جائے اور مجرموں کو بلاامتیاز سخت سزا دی جائے تاکہ قانون کی عملداری قائم ہو اور دوسروں کیلئے بھی عبرت کا سامان پیدا ہو۔ والدین کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ بچوں کو محض مالی سہولتیں فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ ان کیساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرنا‘ انکی روزمرہ سرگرمیوں اور دوستوں پر مناسب نظر رکھنا اور ذاتی حدود اور خطرناک صورتحال سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں