اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تجارتی خسارے میں اضافہ

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے مہینے‘ جولائی میں ملک کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیاد پر 25 فیصد سے زائد اضافے کیساتھ تین ارب 95کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا‘ جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی مہینے میں یہ خسارہ تین ارب 15کروڑ ڈالر تھا۔ اگرچہ جولائی میں برآمدات سالانہ بنیادوں پر تقریباً 10 فیصد بڑھ کر دو ارب 94کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں مگر اس دوران درآمدات میں ہونے والا تقریباً 18فیصد اضافہ برآمدات کی رفتار پر بھاری پڑ گیا۔ ملکی معیشت طویل عرصے سے درآمدی انحصار کا شکار ہے۔ توانائی‘ صنعتی خام مال‘ مشینری اور زرعی شعبے کیلئے درکار آلات کی بڑی مقدار بیرونِ ملک سے منگوائی جاتی ہے۔

اسی طرح اگر برآمدات کا زیادہ تر انحصار چند شعبوں تک محدود رہے گا تو عالمی منڈی میں قیمتوں‘ طلب یا جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کا اثر براہِ راست قومی معیشت پر پڑے گا۔ اس لیے برآمدی بنیاد کو وسعت دینا ناگزیر ہے تاکہ انجینئرنگ‘ آئی ٹی‘ فارماسیوٹیکل‘ زرعی ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور دیگر برآمدی شعبے بھی مضبوط ہوں۔ تجارتی خسارے میں اضافے سے حکومتی پالیسیوں کا تعلق بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ توانائی کی بلند لاگت‘ ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام‘ خام مال کی مہنگی دستیابی‘ بلند مالیاتی لاگت اور غیر یقینی پالیسی ماحول پاکستانی صنعت کی مسابقت کو متاثر کرتے ہیں۔ لہٰذا تجارتی خسارے میں کمی کیلئے حکومت کو سستی توانائی کی متواتر فراہمی‘ برآمدی صنعت کیلئے آسان مالی سہولتوں‘ درآمدی متبادل صنعتوں کے فروغ اور پالیسی تسلسل کو یقینی بنانا ہو گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں