اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ایل پی جی، حکومتی رِٹ کا سوال

اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 254 روپے فی کلو مقرر کی گئی تاہم ملک کے مختلف شہروں میں یہ 380 سے 450 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ یہ محض منافع خوری نہیں حکومتی نگرانی اور پرائس کنٹرول کے نظام پر بھی بڑا سوال ہے۔ ایل پی جی اب محض متبادل ایندھن نہیں رہی بلکہ قدرتی گیس کی قلت کے باعث گھروں اور صنعتوں کی روزمرہ ضرورت بن چکی ہے۔ ایل پی جی پر ہونے والی منافع خوری سے سب سے زیادہ متاثر عام اور کم آمدنی والا طبقہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف شہری سوئی گیس کے بل ادا کر رہے ہیں اور دوسری طرف گیس کی عدم دستیابی یا کم پریشر کے باعث ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ یوں ایک ہی ضرورت کیلئے دہرا مالی بوجھ عوام پر منتقل ہو رہا ہے۔

حکومت کو ملک بھر میں سرکاری نرخوں کا عملی نفاذ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ کا مؤثر طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے۔ غیرقانونی فلنگ سٹیشنز کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے‘ جس طرح پٹرول اور ڈیزل کی فروخت کیلئے لائسنس یافتہ اور رجسٹرڈ پٹرول پمپس کا باقاعدہ نظام موجود ہے‘ اسی طرز پر ایل پی جی کیلئے بھی ایک مربوط‘ شفاف اور قابلِ نگرانی ڈسٹری بیوشن میکانزم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ صرف مجاز اور رجسٹرڈ مراکز سے فروخت اور باقاعدہ انسپکشن ہی اس شعبے میں منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی اور غیرمحفوظ فلنگ کا راستہ روک سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں