بجلی مزید مہنگی ؟
ایک خبر کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا کو رواں برس کی دوسری سہ ماہی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایک روپے کے قریب اضافے کی درخواست کی ہے‘ جس سے صارفین پر 23ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ دوسری جانب صارفین کو رواں سال کی پہلی سہ ماہی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ملنے والا تقریباً دو روپے فی یونٹ ریلیف بھی رواں ماہ ختم ہو جائے گا۔ یوں صارفین کو نہ صرف موجودہ ریلیف سے محروم کیا جارہا ہے بلکہ خدشہ ہے کہ دوسری سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی بوجھ بھی ڈال دیا جائے گا۔ بجلی کی قیمت پہلے ہی عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہے۔ گھریلو صارفین کے مختلف سلیبز کیلئے بجلی کی قیمت 33 سے 75 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ بل میں مختلف سرچارجز‘ ٹیکسز اور ایڈجسٹمنٹس شامل ہونے کے بعد حقیقی مالی بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔

مہنگی بجلی صنعتی پیداوار کی لاگت بھی بڑھاتی ہے جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کھوتی ہیں۔ نتیجتاً برآمدات‘ صنعتی سرگرمی‘ روزگار اور معاشی نمو متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے مہنگی بجلی معیشت کا بنیادی مسئلہ بن چکی ہے۔ نیپرا کو چاہیے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی درخواست کا انتہائی محتاط جائزہ لے اور ایسے اخراجات صارفین کو منتقل کرنے سے گریز کرے جن کا تعلق نظام کی انتظامی ناکامیوں سے ہو۔ صارفین کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کیلئے حکومت کو بجلی سیکٹر میں دیرپا اصلاحات کرنا ہوں گی۔