نتیجہ خیز اور سود مند دورہ
ایرانی حکومت نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کو انتہائی نتیجہ خیز اور سود مند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورہ کے دوران قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ایرانی صدارتی دفتر کے عہدیدار سید مہدی طباطبائی کے مطابق دورۂ ایران کے دوران اہم اور قابلِ قدر سفارتی پیشرفت ہوئی ہے جبکہ اس دورے کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔اس اہم دورے میں جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے‘ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے‘ تنازع کے خاتمے اور علاقائی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے پر بات ہوئی۔ دورے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں ایران اور امریکہ کے مابین اپریل میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال کرنے پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جون میں امریکہ اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے مگر اسکے بعد خطے میں ایک بار پھر جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ ایران امریکہ تنازع سے صرف جنگ میں براہِ راست شامل ممالک ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ پورا خطہ اس کے اثرات سے متاثر ہو رہا ہے۔

اس لیے اس تصادم کو روکنے کیلئے سفارتی راستے کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے پاکستان دونوں متحارب ممالک میں پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دورۂ تہران سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی درخواست اس سفارتی عمل میں ان کے کردار کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کیلئے محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ اس کی علاقائی اہمیت کا اظہار بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب جنگ نے ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی آخری حدیں بھی کمزور کردی ہیں‘ پاکستان دونوں ممالک کو تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران میں اعلیٰ ترین ایرانی قیادت سے براہِ راست رابطہ اور ایرانی قیادت کی جانب سے اس دورے کو نتیجہ خیز قرار دیا جانا اس امن مشن کی اہم کامیابی ہے۔
اب اگلا مرحلہ اس اعتماد کو عملی پیشرفت میں بدلنے کا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو دوبارہ مذاکرات کی میز تک لے آنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ صرف مذاکراتی تعطل کا ہی خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کی طرف سے علاقائی امن کیلئے کی جانے والی مسلسل کوششوں کی ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ ایرانی صدارتی دفتر کے عہدیدار سید مہدی طباطبائی کے یہ الفاظ حوصلہ افزا ہیں کہ فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔اس سلسلے میں ایران اور امریکہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ان مفاہمتی اور سفارتی کوششوں کی کامیابی کیلئے تعاون یقینی بنائیں تا کہ خطے سے جنگ کا خاتمہ ہو اور معاشی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔