اسوۂ حسنہ کی پیروی ہی مسائل کا حل
آج پاکستان میں یومِ ولادتِ مصطفیﷺ اس عزم کیساتھ منایا جا رہا ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی حیات کو اسوۂ حسنہ کے سنہری سانچے میں ڈھالنے کی مقدور بھر سعی کریں گے۔ محسنِ انسانیت‘ سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادتِ باسعادت تاریخِ عالم کا وہ عظیم اور منفرد واقعہ ہے جس نے سسکتی ہوئی انسانیت کو ظلمت کے گھور اندھیروں سے نکال کر ہدایت اور امن و آشتی کے نور سے منور کیا۔ نبی کریمﷺ کی تشریف آوری کائنات کیلئے اللہ تعالیٰ کا وہ ایسا عظیم‘ لامتناہی اور سدا بہار احسان ہے جس کی برکات اور رحمتوں کا سلسلہ رہتی دنیا تک قائم ودائم رہے گا۔ ظہورِ اسلام سے قبل کا عرب معاشرہ جہالت‘ وحشت اور لاقانونیت کا بدترین نمونہ تھا۔ معمولی باتوں پر شروع ہونیوالے جھگڑے قبائلی جنگوں اور نسل در نسل دشمنی پر منتج ہوتے تھے۔ انسانیت اوصاف سے عاری ہو چکی تھی اور ہر طرف نفسانفسی کا عالم تھا۔ ایسی جہالت کے دور میں آفتابِ رسالت طلوع ہوا تو اسکی ضیا پاشیوں نے خطہ عرب کو ایسے جگمگایا کہ معلمِ کائناتﷺ کی بے مثال تربیت سے یہ پچھڑا ہوا معاشرہ دیکھتے ہی دیکھتے علم و حکمت اور تہذیب وہنر کا پیشوا بن گیا۔ رسول کریمﷺ نے دلوں کو جوڑا‘ نفرتوں کو محبتوں میں بدلا اور ایک ایسے فکری وعملی انقلاب کی بنیاد رکھی جس نے دنیا کو جہالت کے گڑھے سے نکال کر ترقی اور شعور کی نئی رفعتوں سے ہمکنار کر دیا۔

اللہ کے آخری رسولﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں حقوقِ انسانی کا وہ جامع اور انقلابی تصور پیش کیا جس کا اس سے پہلے تصور بھی محال تھا۔ آپﷺ نے معاشرے کے پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات‘ بالخصوص خواتین اور غلاموں کو معاشرے میں برابری اور عزت کا حقیقی درجہ دیا۔ آپﷺ کی زندگی کا ہر پہلو‘ خواہ وہ ایک شفیق باپ اور شوہر کی حیثیت سے ہو‘ ایک تاجر کے روپ میں ہو‘ ایک سپہ سالار‘ ایک منصف یا پھر ایک عظیم حکمران کے طور پر ‘ ہر جگہ عفو و درگزر‘ امانت ودیانت اور عدل و انصاف کی قابلِ تقلید عملی مثالیں نظر آتی ہیں۔ آج ہم آپس کے لڑائی جھگڑوں میں اس طرح الجھے ہوئے ہیں کہ سیرت النبیﷺ کی روشن تعلیمات کو بھی فراموش کر دیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے مسلمان کو مسلمان کابھائی قرار دیا‘ جو نہ اس پر ظلم کرتا ہے‘ نہ اس کو رسوا کرتا ہے اور نہ ہی اس کو حقیر جانتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے‘ رسوا و بدنام کرنے اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی روش جڑوں تک سرایت کر چکی ہے۔معاشرے میں اقلیتوں‘ عورتوں اور بچوں کے تحفظ کی ابتر صورتحال سر شرم سے جھکا دیتی ہے۔ آئے دن اقلیتوں کو ہراساں یا حقوق غصب کرنے کی خبریں سننے کو ملتی ہیں حالانکہ رسول کریمﷺ نے معاہد (اقلیتی برادری) کیساتھ ظلم و زیادتی کی صورت میں بروزِ قیامت خود انکی وکالت کی تنبیہ فرمائی ہے۔
صرف ایک سال (2025ء)میں ملک میں بچوں سے زیادتی کے 3600 سے زائد کیس ریکارڈ ہوئے جبکہ خواتین پر ظلم و تشدد کے کیسز کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے بھی زائد ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں رسول کریمﷺ نے بالخصوص عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرنے کی تاکید فرمائی۔ نیز فرمایا: جو بڑوں کااحترام اور چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔ آج کا دن ہمارے لیے بالخصوص غور و فکر کا ایک مقام ہے کہ ہماری زندگیاں سیرت النبیﷺ سے دور کیوں ہیں؟ ہمیں اپنے معاشرے میں انسانی تکریم اور کمزور طبقات کیساتھ حسنِ سلوک کی نبوی تعلیمات کی یاددہانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے سے سماجی برائیوں اور ظلم و ناانصافی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سیرتِ رسولﷺ کی تعلیمات کو اپنانا ہو گا۔ آج کے دن کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی مملکت اور سماج کو عدل و انصاف‘ قانون کی بالادستی‘ میرٹ اور انسانی تحفظ کے انہی زریں اصولوں کے مطابق ڈھالنے کا عہد کریں جن پر تاریخ کی پہلی مثالی فلاحی ریاست یعنی ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔