اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مزید سانحات کا انتظار ؟

پمز کے بعد لاہور اور کراچی کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کے انکشافات اس امر کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک ہسپتال‘ شہر یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق لاہور کے 19 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 65 فائر ہائیڈرنٹس درکار ہیں مگر صرف 29 نصب ہیں۔ بعض ہسپتالوں میں ایک بھی فائر ہائیڈرنٹ موجود نہیں۔ سندھ کے 22سرکاری ہسپتالوں کی فائر سیفٹی رپورٹ بھی خطرے کی نشاندہی کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں 1750 بستروں کے سول ہسپتال میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز موجود نہیں جبکہ بجلی کی وائرنگ بھی مرمت طلب ہے۔

بعض دوسرے ہسپتالوں میں آگ بجھانیوالے آلات ناکافی یا خراب ہیں‘ فائر ڈرلز باقاعدگی سے نہیں ہوتیں اور کئی مقامات پر فائر سیفٹی کا بنیادی ڈیٹا تک موجود نہیں۔ پمز کا سانحہ صوبائی حکومتوں‘ محکمہ صحت اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہونا چاہیے۔ پمز جیسے سانحہ سے محفوظ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام ہسپتالوں کا آزادانہ فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے‘ فائر الارم‘ سپرنکلرز‘ ہائیڈرنٹس اور آگ بجھانے والے آلات کی دستیابی کے ساتھ بجلی کی وائرنگ‘ ہنگامی راستوں اور دھوئیں کے اخراج کے نظام کا بھی باقاعدہ معائنہ ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں